زیتون کا تیل امراضِ قلب اور دماغ کی بیماریوں کا خطرہ کم کرتا ہے، تحقیق

امریکی غذائی ماہرین کی اٹھائیس سالہ تحقیق کے مطابق زیتون کے تیل کا روزانہ استعمال دل اور دماغی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق امریکی غذائی ماہرین نے تقریباً ایک لاکھ امریکیوں کی غذائی عادات کا 28 سال تک جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخد کیا ہے کہ روزانہ معمولی مقدار میں زیتون کے تیل کا استعمال امراضِ قلب اور دماغی بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے بہترین ہے۔ امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ جن خواتین و حضرات نے روزانہ صرف 7 گرام یعنی ایک کھانے کے آدھے چمچے جتنا زیتون کا تیل روزانہ استعمال کیا، وہ لوگ دل اور دماغ کی مختلف بیماریوں سے زیادہ محفوظ رہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ مکھن اور ماجرین کے بجائے زیتون کے تیل کو ترجیح دینے والے افراد میں کینسر سے اموات کی شرح میں بھی کمی دیکھی گئی۔ تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر مکھن اور مارجرین جیسی چکنائیوں کے استعمال میں صرف 10 گرام روزانہ جتنی کمی کی جائے اور اس کی جگہ  جگہ اتنی ہی مقدار میں زیتون کا تیل استعمال کرلیا جائے تو کسی بھی طبّی سبب سے موت کے خطرے میں 8 سے 34 فیصد تک کمی واقع ہوتی ہے۔ ہارورڈ ٹی ایچ چین اسکول آف پبلک ہیلتھ، بوسٹن کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ زیتون کا تیل بالکل بھی استعمال نہ کرنے والوں کے مقابلے میں جن افراد نے روزانہ ایک کھانے کے چمچ یا صرف آدھے چمچے جتنا زیتون کا تیل باقاعدگی سے استعمال کیا تھا، ان میں دل کی کسی بھی بیماری سے موت کا خدشہ 19 فیصد کم تھا۔ یاد رہے کہ زیتون اور اس کے تیل کے فوائد کی وجہ سے اس کا استعمال کئ دہائیوں سے کیا جا رہا ہے تاہم زیتون کے تیل کی افادیت پر یہ ایک طویل مدتی تحقیق سامنے آئی ہے جس میں زیتونکے تیل کا موازنہ مکھن، مارجرین اور مایونیز کے استعمال سے کرنے کے بعد ایک محتاط نتیجہ اخد کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ زیتون کے تیل کا کم سے کم ایک چمچ روزانہ استعمال کرنے والوں میں کینسر سے موت کا خطرہ 17 فیصد کم، دماغی و اعصابی بیماری سے موت کا خطرہ 29 فیصد کم، اور سانس کی تکلیف سے موت کا خدشہ 18 فیصد کم دیکھا گیا ہے۔