بنوں میں ایک مرتبہ پھر خسرہ کی وباء بے قابو، 3 بچے جاں بحق

خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ایک مرتبہ پھر خسرہ کی وباء بےقابو ہوگئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق  بنوں کے علاقے خوجڑی میں  وباء سے تین بچے جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ درجنوں بچے مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ علاقہ مشران کے مطابق  تین بچے خسرہ کی وباء سے جان کی بازی ہار گئے لیکن محکمہ صحت کے حکام کو خبر تک نہ ہوئی۔ علاقہ مشران نے مطالبہ کیا ہے کہ  صوبائی حکومت خیبر پختونخوا بنوں محکمہ صحت کے ذمےداروں کے خلاف کارروائی کریں اور اگر کارروائی نہ کی گئی تو سڑکوں پر نکلیں گے۔ دوسری جانب ای پی آئی کوارڈنیٹر ڈاکٹر اشرف یونس نے کہا ہے کہ جاں بحق اور متاثرہ بچوں کے والدین ویکسینیشن سے انکار کررہے تھے جس کے سبب یہ واقعہ رونما ہوا۔ یاد رہے کہ خسرہ ایک نہایت متعدی مرض ہے جو پیرامائکسووائرس فیملی کے ایک وائرس کے ذریعہ لاحق ہوتا ہے۔ خسرہ کوروبیلا  بھی کہا جاتا ہے لیکن اسے روبیلا کے ساتھ یا نام نہاد جرمن خسرہ کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔ خسرہ بہت سے ترقی پذیر ممالک میں بچوں کی موت کی ایک بڑی وجہ ہے۔ 2014 میں، دنیا بھر میں خسرہ کی وجہ سے 114,900 موتیں ہوئیں، جو کہ ہر گھنٹہ 13 موت کے برابر اور ہر دن 314 موت کے برابر ہے۔ خسرہ کے علامات میں شامل ہیں بخار اور کھانسی اور اس کے بدنام سرخ باد، جو عام طور پر چہرے سے شروع ہوتے ہیں، خاص طور سے، بخار خسرہ کے سرخ باد سے پہلے آتا ہے تاہم جب سرخ باد غائب ہو جائے تو بخار 104 فارنہائٹ (40 ڈگری سیلسیس) یا اس سے اوپر کے درجہ حرارت تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ علامات عام طور پر خسرہ وائرس کے ساتھ انفیکشن کے بعد ایک سے دو ہفتوں میں شروع ہوتی ہیں جبکہ زیادہ تر لوگ دو سے تین ہفتوں میں ٹھیک ہو جاتے ہیں۔