یہ شخص ’کچھ نہ کرنے‘ کا معاوضہ لیتا ہے!

ٹوکیوجاپان میں ایک شخص ایسا بھی ہے جو ’کچھ نہ کرنے‘ کا باقاعدہ طور پر معاوضہ لیتا ہے اور یہی اس کی آمدنی کا ذریعہ بھی ہے۔

خبروں کے مطابق، ٹوکیو میں رہنے والے 38 سالہ شوجی ماریموتو اپنے بچپن ہی سے بہت کام چور ہیں جس کی وجہ سے اپنے جاننے والوں میں وہ ’کچھ نہ کرو‘ (do-nothing) کے نام سے مشہور ہیں۔اپنی اسی عادت کی وجہ سے وہ اکثر بے روزگار رہتے ہیں۔ 2018 میں شوجی نے اپنی طویل بے روزگاری اور نکمے پن ہی کو ذریعہ معاش بنانے کا فیصلہ کیا اور جاپانی سوشل میڈیا پر ’کچھ نہ کرنے والا آدمی کرائے پر دستیاب ہے‘ کے عنوان سے اپنی خدمات کی تشہیر کرنا شروع کردی۔حیرت انگیز طور پر، ان کی ’خدمات‘ حاصل کرنے کےلیے درجنوں افراد نے ان سے رابطہ کیا اور ’کچھ نہ کرنے‘ پر مناسب معاوضے کی پیشکش بھی کی۔آج حالت یہ ہے وہ اپنے نکمے پن میں بہت مصروف رہتے ہیں جبکہ ان کے مستقل کلائنٹس کی بڑی تعداد کسی نہ کسی مقصد کےلیے ان کی خدمات لیتی رہتی ہے۔مثلاً کسی موسیقار کو اپنی دھنیں سنانے کےلیے ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو اسٹوڈیو کے ایک کونے میں بیٹھا رہے اور یہ دھنیں سنتا رہے، تو وہ ماریموتو کو بلوا لیتا ہے۔ان کے مستقل گاہکوں میں ایک خاتون ایسی بھی ہیں جو انہیں کسی اچھے ریستوران میں بلاتی ہیں جہاں وہ دونوں خاموشی سے چائے یا کافی پیتے ہیں۔

’’یہ سروس تو میں نے یونہی شروع کی تھی لیکن مجھے احساس ہوا کہ بعض لوگ اپنی زندگی میں اس قدر اکیلے ہوتے ہیں کہ وہ کچھ دیر کو اپنی تنہائی دور کرنے کےلیے خوشی خوشی معاوضہ دینے کو تیار ہوجاتے ہیں،‘‘ شوجی نے مقامی میڈیا کے نمائندے کو بتایا۔

’’میرے بیشتر مستقل گاہک مجھے کسی جگہ بلاتے ہیں اور میں خاموشی سے ان کے پاس بیٹھ جاتا ہوں۔ مجھے کچھ نہیں کرنا ہوتا، صرف ان کے پاس بیٹھنا ہوتا ہے اور کبھی کبھار ان کے دل کی باتیں بھی سننی پڑتی ہیں۔ میں اپنے کسی بھی کلائنٹ کی شناخت ظاہر نہیں کرتا اور جب تک وہ اجازت نہ دے، تب تک اس کی باتیں کسی اور تک نہیں پہنچاتا،‘‘ شوجی نے اپنے کام کی نوعیت اور تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا۔