تیونس نے 500 غیر قانونی تارکین وطن کو ڈوبنے سے بچالیا

تیونس کی بحریہ نے کئی پاکستانیوں سمیت 500 غیر قانونی تارکین وطن کو ڈوبنے سے بچانے کا دعویٰ کیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق تیونس کی وزارت دفاع بحریہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ لیبیا سے غیر قانونی تارکین سے بھری ایک کشتی کو بحیرہ روم میں ایک آپریشن کے دوران بچالیا گیا ہے۔ جزیرہ کیرکناہ کے قریب کئے گئے اس ریسکیو آپریشن میں تیونس کی بحریہ اور نیشنل گارڈز کی پیٹرولنگ بوٹس اور بحری جہازوں نے حصہ لیا۔ تیونس کی بحریہ کا کہنا تھا کہ کشتی میں 500 غیر قانونی تارکین وطن موجود تھے اور وہ یورپ جانا چاہتے تھے، ان میں 162 مصری، 104 بنگلا دیشی، 81 شامی ، مراکش کے 78 شہری اور کچھ پاکستانی تارکین بھی شامل تھے۔ بچائے گئے تارکین وطن میں خواتین کے علاوہ 93 بچے بھی ہیں۔ انسانی اسمگلرز لیبیا سے اٹلی جانے والے اس سمندری راستے کو سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں، اس راستے سے 2021 کے دوران 60 ہزار کے قریب تارکین غیر قانونی طریقے سے اٹلی پہنچے ہیں۔ واضح رہے کہ چند روز قبل برطانیہ اور فرانس کے درمیان سمندری پٹی ’انگلش چینل‘ میں غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی دوب گئے تھی جس سے 27 افراد زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔ جاں بحق افراد میں کئی بچے بھی شامل تھے۔ اس حوالے سے برطانیہ اور فرانس کے درمیان تعلقات میں کشیدگی بھی آئی ہے۔