وادی سون کا قلعہ تلاجہ ماہرین آثار قدیمہ و سیاحوں کی توجہ کا مرکز، بحالی کا کام شروع

پاکستان تہذیب اور ثقافت کے لحاظ سے خوبصورت رنگوں سے مزین ایک بھرپور ملک ہے، جہاں مختلف ثقافتوں کا خوبصورت امتزاج پایا جاتا ہے مگر حیف صد افسوس کہ عرصہ دراز گزارنے کے باوجود بھی پاکستان کے اس خوبصورت چہرے کی عکاسی کے لیے کوئی واضح اور مدلل کوشش نہیں کی گئی۔ پچھلے ادوار کی نسبت موجودہ حکومت نے تہذیب و ثقافت کی تصویر کو اُجاگر کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے اور سیاحتی نقطہ نظر کے ساتھ ساتھ ثقافتی زاویوں سے بھی پاکستان کی مثبت تصویر سیاحوں اور دنیا کے سامنے پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔

پاکستان تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف تہذیبوں کی آماجگاہ رہا ہے اور وادی سندھ کی تہذیب سے لے کر یونانیوں کی آمدکے اثرات تک اور بعدازاں مسلمانوں کی آمد کے ساتھ مسلم فنِ تعمیر سے لے کر ثقافتی اثرات تک بہت سے ادوار دیکھے ہیں۔ مزید برآں سکھ اور برٹش ثقافتی ورثہ بھی نمایاں اہمیت کے حامل ہیں اور ہماری شاندار تاریخ اور تہذیب کی عکاسی کرتے ہیں۔

وادی سون میں موجود بے شمار تاریخی اہمیت کے حامل مقامات میں سے تُلاجہ فورٹ یا قلعہ تُلاجہ ہے، جس کو حالات کے تھپیڑوں نے معدوم یا بالکل ختم کر دیا ہے، لیکن موجودہ حکومت کی کوششیں بار آور ثابت ہو رہی ہیں اور اس کی بحالی پر کام جاری ہے۔ تُلاجہ قلعہ یا شہر تک جس کو مقامی آبادی شہرِ گُمشدہ بھی کہتی ہے‘  تک ایک غیرہموار اور نا پختہ راستوں سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی پیدل مسافت سے پہنچا جا سکتا ہے۔  سبزے کے ساتھ ساتھ ایک خوبصورت ندی بھی اس علاقے کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتی ہے، جہاں سے لوگ اپنی پانی کی ضروریات پوری کرتے ہیں۔

تُلاجہ قلعہ رکھ خور سے مشرق اور دربار بابا کچھی والا سے شمال مشرق میں واقع ہے۔ مقامی روایات قلعہ کو 5000 سال سے بھی زیادہ پُرانا بتاتی ہیں جبکہ مقامی آبادی کے مطابق اس کو منگولوں کی ریشہ دوانیوں سے بچنے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس قلعہ کی تعمیر تکونی پتھروں کے ساتھ کی گئی اور مقامی روایات کے مطابق اس کا دروازہ ایک غار میں کھلتا تھا جس کو ایک بھاری پتھر کے ساتھ بند کر دیا جاتا تھا۔https://www.facebook.com/v2.3/plugins/quote.php?app_id=770767426360150&channel=https%3A%2F%2Fstaticxx.facebook.com%2Fx%2Fconnect%2Fxd_arbiter%2F%3Fversion%3D46%23cb%3Df2c395eeb3f8fb4%26domain%3Dwww.express.pk%26is_canvas%3Dfalse%26origin%3Dhttps%253A%252F%252Fwww.express.pk%252Ff2559050fc7079%26relation%3Dparent.parent&container_width=1263&href=https%3A%2F%2Fwww.express.pk%2Fstory%2F2241179%2F1%2F&locale=en_US&sdk=joey

جا بجا سکیورٹی چیک پوسٹیں موجود ہونے کے آثار اب بھی باقی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جلا ل الدین خوارزم شاہ منگولوں سے شکست کھانے کے بعد اس علاقے میں آ بسا اور اس کے بعد اس کے جنرل سیف الدین قرلاغ نے اس علاقے پر حکومت کی۔ اس علاقے کے لوگ دراز قد اور مضبوط جسم کے حامل ہیں جو کہ دنیا کے بہترین فوجیوں کا علاقہ ہے۔  جلال الدین خوارزم شاہ 1221ء میں منگولوں سے ہارنے کے بعد اس علاقے میں پہنچا اور مقامی کھوکھر سردار رائے سنگین کا دوست بنا اور یہاں اس قلعہ میں قیام پذیر ہوا۔ بعدازاں جلال الدین خوارزم نے یہ علاقہ بھی چھو ڑ دیا اور ایران کی طرف چلا گیا۔

اِن تمام تر سینہ بہ سینہ روایات اور تاریخی حقائق سے پردہ اُٹھانے کے لیے اس علاقے کی تفصیلی رپورٹ مرتب کرنے کے لیے شعبہ آثار قدیمہ جامعہ پنجاب نے تُلاجہ فورٹ پر تحقیقی کام شروع کیا۔ جس میں جامعہ پنجاب کے پروفیشنل ماہرین پر مشتمل ماہرین آثار قدیمہ‘ تاریخ دان‘ فوٹوگرافر‘ ڈرافٹسمین اور ماہرڈرون نے مسلسل کئی دِن تک اس قلعے کے مختلف حصوں کا سروے کیا اور روزانہ مشکل چڑھائی چڑھتے ہوئے اس جگہ کی خصوصیات کو ریکارڈ کیا ۔

تُلاجہ قلعہ کی تفصیلی پیمائش کی گئی۔ نمایاں آثار میں ایک مساوی پیمائش کی مسجد ہے، جس سے منسلک ایک مرکزی گلی اور قریبی چھوٹے اور بڑے گھر اور سب سے اہم ایک 30×30 میٹر کا تالاب دریافت کیا گیا۔ اس سارے عمل میں عمارتوں میں استعمال ہونے والے پتھروں کے سائز‘ اینٹوں کا استعمال اور آبادی کے مختلف حصوں کی بھی نشاندہی کی گئی۔ بعدازں اس سارے کام کی تفصیلی رپورٹ محکمہ سیاحت اور آرکیالوجی کے عہدیداران کو پیش کی گئی، جسے خوب سراہا گیا۔

تاریخی اعتبار سے تُلاجہ قلعہ ایک پہاڑی پر واقع ہے جس کے چاروں اطراف میں گہری کھائیاں ہیں جس کی وجہ سے اس قلعے کو قدرتی طور پر ایک مضبوط اور ناقابل تسخیر تصور کیا جاتا ہے۔ اس کا رقبہ تقریباً 22ایکڑ ہے اور اس جگہ پر رہنے والی آبادی تقریبًا200 سے زائد گھروں پر مشتمل تھی۔ یہ لوگ مکمل طور پر طرزِ زندگی کے تمام آداب سے واقف تھے ۔ قوی امکان ہے کہ بنیادی ضروریات کے ناپید ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی نے نقل مکانی اختیار کی اور یوں یہ قلعہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ اپنی تمام تر رعنائیوں سے محروم ہو گیا اور موجودہ آثار کی شکل میں موجود ہے ۔

اس قلعے سے متعلق کئی اہم رازوں اور سوالات سے پردہ اُٹھانا ابھی باقی ہے۔ مثال کے طور پر یہ قلعہ سب سے پہلے کب بنا ‘ کن لوگوں نے بنایا ‘ کون اس کے پہلے باسی تھے‘ کس مذہب کے پیروکار تھے‘ یہ قلعہ کتنے سو سال تک آباد رہا اور کن کن خاندانوں کے زیراثر رہا ‘ کتنی دفعہ اُجڑا اور آبادی ہوا  اور آخری نقل مکانی کب ہوئی؟ اب حکومتِ پنجاب کی کوششوں سے اس کی بحالی کے لیے کام کیا جا رہا ہے