شاہ محمود قریشی کی امریکی ہم منصب سے ملاقات

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی نیو یارک میں امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن سے پہلی بار ملاقات ہوئی ہے اور اس حوالے سے امریکی محکمہ خا رجہ نے بھی اعلامیہ بھی جاری کردیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی نیو یارک میں امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن سے ملاقات ہوئی جس میں شاہ محمود قریشی نے افغانستان میں وسیع البنیادحکومت کےقیام پرزور دیا۔ انہوں نےکہاکہ اُمید ہے دنیا افغانستان کو تنہا چھوڑنے کی غلطی نہیں دہرائے گی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان میں ہمیں ایک نئی سیاسی حقیقت کا سامنا ہے جبکہ طالبان کے جنگ بندی،عام معافی،خواتین کےحقوق کا تحفظ جیسے بیانات حوصلہ افزاہیں۔ شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ عالمی برادری افغانستان میں بڑھتےانسانی بحران سے نمٹنے میں مددکیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ اس موقع پر امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے امریکی شہریوں کےمحفوظ انخلا اور خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔ انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ شاہ محمودقریشی سے جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پرمل کرخوشی ہوئی جبکہ بہت سے موقعوں پر شاہ محمود سے پہلے بھی فون پربات ہوتی رہتی تھی۔ امریکی وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ ملاقات میں افغانستان کے مستقبل اوردونوں ملکوں کے تعلقات پرکھل کربات ہوئی ۔ اس کے علاوہ ملاقات میں معیشت اور باہمی تعلقات سمیت خطےکی بہتری کے لیے مل کرکام کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے امریکی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا، وزیر خارجہ نے کشمیر میں بھارتی مظالم پر دستاویزی شواہد بھی بلنکن کے حوالے کیے۔ واضح رہے کہ  وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیویارک میں  ترک اور سعودی ہم منصب سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی امریکی ہم منصب سے ملاقات تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی۔