افغانستان کی سالمیت اورخود مختاری کااحترام کرتے ہیں ۔ شاہ محمود قریشی

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ افغانستان سے متعلق تمام گزشتہ پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئیں۔ افغانستان کی صورتحال پر ’ورچوئل علاقائی کانفرنس‘ سے خطاب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغانستان میں تبدیلی ایک حقیقت ہے، افغانستان کے عوام کے ساتھ ہیں، افغانستان کے مسائل افغانستان کے عوام کو ہی حل کرنے چاہئیں۔ پاکستان کی دعوت پر افغان مسئلے پر پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ کا ورچوئل اجلاس ہوا۔ اجلاس میں چین،ایران،تاجکستان،ترکمانستان، ازبکستان کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’ہمیں افغانستان اور عوام کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا، یقینی بنایا جائے کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، مہاجرین کی آمد اور بارڈر سکیورٹی کے چیلنجز ہیں، افغانستان کی اقتصادی صورتحال بہتر کرنے کیلئے عالمی برادری کو کردار ادا کرنا ہوگا‘۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرتے ہیں،  افغانستان میں کوئی خون ریزی نہیں ہوئی، طالبان نے عبوری کابینہ کا اعلان کیا ہے،افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لے رہے ہیں،افغانستان میں تبدیلی ایک حقیقت ہے، صورت حال مشکل اورپیچیدہ ہے۔ خیال رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے آج اپنے بیان میں کہا ہے پاکستان، ایران، چین اور روس طالبان سے متنازع معاملات پر بات کررہے ہیں۔ امریکا نے طالبان کی عبوری حکومت کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ہے  جبکہ جاپان نے طالبان سے بات چیت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ طالبان کےاقدامات کامشاہدہ کررہےہیں۔ قطرکے نائب وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ ہم طالبان کو تسلیم کرنےمیں جلدی نہیں کررہے، طالبان سےرابطےختم نہیں کرینگے،درمیانی راستہ اختیارکرینگے ۔ ادھر چین نے بھی کہا ہے کہ وہ افغانستان کی نئی حکومت اور رہنما سے رابطے جاری رکھے گا۔