پاکستان مقبوضہ کشمیر کو آزاد کروا کے رہےگا

دنیا بھر کی طرح آج پاکستان اور سرحد کے دونوں اطراف رہنے والے کشمیری مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے دو سال مکمل ہونے پر یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی مقبوضہ کشمیر کے عوام سے یوم یکجہتی کے لیے ریلیاں نکالی جا رہی ہیں اور تقاریب کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صدر عارف علوی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور غلام سرور سمیت دیگر شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے نکالی گئی ریلیوں میں شرکت کی، صبح 9 بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور ٹریفک کو بھی روکا گیا۔ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کا ایک یکجہتی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا اس وقت تک پاکستان کا کوئی شخص چین سے نہیں بیٹھےگا۔ انہوں نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک مضبوط قوم ہے اور 5 اگست 2019 کا اقدام واپس لیے جانے تک بھارت سے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ تھا اور پاکستان مقبوضہ کشمیر کو آزاد کروا کے رہےگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے کشمیریوں سے حق خودارادیت کا وعدہ کیا تھا، آج آزاد کشمیر میں تو میڈیا آزاد ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں میڈیا کو نہیں جانے دیا جاتا۔ صدر پاکستان کا کہنا تھا کہ بھارت خطے کا امن تباہ کر رہا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے یوم استحصال کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات اور بعدازاں ڈومیسائل قواعد اور اراضی ملکیت کے قوانین سے متعلق دیگر اقدامات کا مقصد غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے جغرافیائی ڈھانچے کو تبدیل کرنا اور کشمیریوں کو ان کی اپنی ہی سرزمین پر اقلیت میں بدلنا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اقدامات اقوام متحدہ کے منشور، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور چوتھے جینیوا کنونشن سمیت بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، پاکستان، کشمیری عوام اور بین الاقوامی برادری نے ان اقدامات کو یکسر مسترد کیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی ذرائع ابلاغ سمیت بین الاقوامی برادری پر زور دیتا ہے کہ کشمیری عوام کے خلاف جرائم پر بھارت کا محاسبہ کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم کشمیری عوام کو ان کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے حصول اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق جموں و کشمیر تنازع کے منصفانہ حل تک اپنی ہر ممکنہ معاونت جاری رکھیں گے۔