بے جا تنقید بچوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے، بچوں سے ان 5 الفاظ کا استعمال بھی ترک کر دیں

بے جا تنقید بچوں کی معصوم ذہنیت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے اور ان کی شخصیت کی تعمیر پر اثرانداز ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین بچوں پر بے جا تنقید اورڈانٹ ڈپٹ نہ کریں کیونکہ ہر وقت ڈانٹنے سے بچے اس کے عادی ہو جاتے ہیں۔ اکثر والدین اپنے بچوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی ایسے الفاظ کہہ جاتے ہیں جو بچوں کو ذہنی و جسمانی لحاظ سے نقصان پہنچاتت ہیں۔ آئیے ہم یہاں انہی 5 الفاظ کے بارے میں بات کرتے ہیں اوربچوں پر مرتب ہونے والے ان کے نقصانات جانتے ہیں۔

تمہیں پتہ ہونا چاہیے

جب آپ بچے سے کہتے ہیں کہ تمہیں پتہ ہونا چاہیے تو اس جملے سے بچے کو یہ پیغام جاتا ہے کہ تم اتنے بے وقف ہو کہ تم سے کوئی درست فیصلہ نہیں ہوتا۔ اس جملے کے بجائے یہ کہنا چاہیئے کوئی مسئلہ ہو گیا ہے تو بتا ؤ اسے ٹھیک کرنے کیلئے کیا کریں، اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ آپ کا ہدف مسئلے کا حل ہوگا ، مسئلہ نہیں۔ اس عمل سے بچہ اپنی غلطیوں کی خود ہی اصلاح کرے گا اور بہتر سے بہتر فیصلے کرے گا۔

تم چھوڑو مجھے خود کرنے دو

اس الفاظ کو بھی کہنے سے ہمیشہ پر ہیز کریں کیونکہ یہ الفاظ کہہ کر آپ بچے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں کہ تم اس کام کرنے کے قابل ہی نہیں ہو۔ بچہ جو بھی کام کر رہا ہو اسے پورا وقت دیں کہ وہ اپنا کام مکمل کر لے آرام سے۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ اس الفاظ کے استعمال کے بجائے یہ کہہ لیا کریں کہ اتنی جلدی کیا ہے آرام سے کرو یہ کام، یا پھر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ میں بس اس مرتبہ اپآپ کی مدد کر رہا ہوں کیونکہ ہمیں جلدی کہیں جانا ہے اور اگلی مرتبہ ہم یہ کام مل کر کریں گے۔

تم ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہو

بچے کئی مرتبہ کوئی شرارت یا پھر کوئی کام غلط کر دیں تو والدین کہتے ہیں کہ ” تم ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہو” تو یہ الفاظ استعمال کر کے آپ مذکورہ معاملے کو بچے کی نظر سے دیکھنا چھوڑ دیتے ہیں ساتھ ہی ساتھ بچوں کو سکھانے کا یہ موقع بھی گنوا دیتے ہیں کہ انہیں اس طرح حالات میں مستقبل میں کیا کرنا چاہیے۔ اگرآپ کا بچہ کسی خاص وقت میں کوئی خاص حرکت کرتا ہے تو اس پر چیخنے چلانے کے بجائے اس وقت میں اس کے ساتھ رہیں۔ اس عمل سے بچے اور آپ کے درمیان قربت بڑھتی ہے اور معاملہ وہیں حل ہو جاتا ہے۔

تمہاری یہ حرکت دیکھ کر مجھے دکھ ہوتا ہے

جب بچے بات نہیں مانتے تو والدین کو بہت برا لگتا ہے لیکن آپ اس وقت انہیں یہ مت کہیں کہ تمہاری یہ حرکت دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہو ا۔ جذبات کا کھیل کھیلنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم حدود طے کر لیں کیونکہ یہ آپ کے خیالات ہیں بچوں کے نہیں جو ان کی شرارتیں دیکھ کر اپ کے زہن میں آتے ہیں بلکہ بےض کی زہنیت کے مطابق سوچیں۔ اور ا گر آپ ایسے ہی جملے کہتے ہیں تو بچے یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ان کی خوشی اور افسردگی کے تمام بٹن آپ کے ہاتھ میں ہیں۔ ان حالات میں آپ کے اور بچوں کے درمیان تعلقات خراب بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ حدود قیود کا تعین کیا جائے جیساکہ انہیں بتایا جائے کہ صوفہ پر خاموشی سے بیٹھیں اور ساتھ ہی دوسرا راستہ بھی دیکھائیں کہ اگر کھیلنا ہے تو باہر جا کر کھیلیں۔

یہ تو کوئی بڑی بات نہیں

جب بچے کسی ایسی بات پر رو رہے ہوں جو بہت معمولی سی ہو اور وہ چپ نہ کریں تو والدین انہیں چپ کروانے کیلئے کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو کوئی بری بات نہیں اور ایسے میں آپ کا کہا ہوا یہ جملہ ان کے جذبات کو متاثر کرتا ہے۔ اس صورتحال میں یہ ہونا چاہیے کہ تھوڑ ی دیر کیلئے ان کے ساتھ بیٹھیں اور کہیں کہ تم بہت پریشان، غم زدہ لگ رہے ہو ، ایسا کرنے سے بچے کو محسوس ہوگا کہ آپ اس کے مددگار ہیں اور اس کے جذبات کی قدر کرتے ہیں۔