امجد صابری کی پانچویں برسی آج منائی جارہی ہے

صابری برادران کی مشہور زمانہ قوالی گا کر شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے اور لاکھوں دلوں پر راج کرنے والے معروف قوال امجد صابری کی پانچویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ فن قوالی میں دنیا بھر میں نام کمانے والے امجد صابری کو اپنے مداحوں سےبچھڑے  پانچ سال کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن سماعتوں میں رس گھولنے والی آوازآج بھی کروڑوں شائقین قوالی کے سینے میں دل بن کر دھڑک رہی ہے۔ سن 1976ء کو کراچی کے معروف قوال گھرانے میں آنکھ کھولنے والے امجد صابری کو قوالی کا ذوق و شوق ورثے میں ملا، قوالی کی ابتدائی تربیت والد غلام فرید صابری اور بڑے بھائی عظمت صابری عرف اجو بھائی حاصل کی۔ امجد صابری نے پہلی بار صرف 12سال کی عمر میں 1988ء میں اسٹیج پر پرفارم کیا لیکن اپنے والد غلام فرید صابری کے انتقال کے بعد انھوں نے ایک نئے روپ میں ابھر کر سامنے آئے۔ امجد صابری نے باقاعدہ قوالی کا آغاز اسی کلام سے کیا جو کلام ماضی میں ان کے والد اور چچا کو بام عروج پر پہنچا چکے تھے اور آنے والے وقتوں میں امجد فرید صابری نے شعبہ قوالی میں بے پناہ شہرت حاصل کی۔ 22جون سن 2016ء کو لیاقت آباد میں گھر سے کچھ فاصلے پر انھیں دہشت گردوں نے فائرنگ کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں امجد صابری شدید زخمی ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لا کر جاں بحق ہوگئے تھے۔ یاد رہے کہ امجد صابری کے قتل میں ملوث مجرم عارش کی سزائے موت پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نےگزشتہ برس اگست میں  معطل کر دی تھی۔ ملزم کو فوجی عدالت کی جانب سے موت کی سزا سنائی گئی تھی، سزا پانے والے مجرم کے والد کا کہنا ہے کہ میرے بیٹے کو بغیر ثبوت کے پھانسی کی سزا سنائی گئی، وہ  بے قصور ہے۔