چودہ جون ، خون عطیہ کرنے والوں کا عالمی دن

چودہ جون ، آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں خون عطیہ کرنے والوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اس دِن کو منانے کا مقصد بلڈ ڈونرز کی حوصلہ افزائی کر نا ہے جو بلامعاوضہ خون عطیہ کرکے دوسرے لوگوں کی زندگیاں بچاتے ہیں۔ تھیلیسیمیا جیسی بیماری میں مبتلا مریضوں کو اوسطاً ہر 10سے 15روز میں خون کی ضرورت پڑتی ہے جو ان بلڈ ڈونر کی مدد سے ہی ممکن ہو پاتی ہے۔ ہر سال چودہ جون کے دن خون عطیہ کرنے والوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، یہ دن سائنس دان (کارل لینڈ اسٹائنر) کے جنم دن کی یاد میں منایا جاتا ہے۔  خون کی بناوٹ کے حوالے سے ایک مضمون لکھا جومقبول ہوا تھا، اس تھیوری کی بناء پر ایک ہی گروپ کے خون کو ملانے کا تجربہ 1907ء میں نیویارک کے اسپتال میں کیا گیا جو کامیاب بھی ہوا تھا۔ اس تھیوری کی وجہ سے آج کی جدید سائنس اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اے بی گروپ کے انسانوں کو کسی بھی گروپ کا خون دیا جا سکتا ہے اور او نیگیٹو گروپ کے حامل افراد کسی بھی انسان کو خون دے سکتے ہیں۔ آج پوری دنیا اس عظیم سائنس دان کے یوم پیدائش کو خون عطیہ کرنے والوں کے عالمی دن کے طور پر مناتی ہے۔

خون دینے کے بے شمار فوائد ہیں:

1۔ ینسر ہونے کے  خطرات کم ہوجاتے ہیں ۔

2۔  جگر اور لبلبہ کی بیماریوں سے بچاؤ، دل کی بیماریوں سے بچاؤ  رہتا ہے۔