پاکستانی پارلیمانی وفد کو افغانستان میں لینڈنگ کی اجازت نہ ملی، دروہ ملتوی

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت افغانستان کے دورے پر جانے والے پارلیمانی وفد کے جہاز کو کابل ائیر پورٹ پر لینڈنگ کی اجازت نہ ملنے کے باعث دورہ ملتوی کر دیا گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر پارلیمانی وفد کے ہمراہ تین روزہ دورے کے لیے افغانستان روانہ ہوئے تھے، وفد میں نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق خان اور  رکن پارلیمان غلام مصطفیٰ شاہ بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ وفد میں ساجد خان، رانا تنویر، گل داد خان، شیخ یعقوب اور  شاندانہ گلزار  بھی شامل تھے۔ پاکستان کے پارلیمانی وفد نے 8 سے 11 اپریل تک افغانستان کا دورہ کرنا تھا اور اس دوران وفد نے افغان صدر اشرف غنی، وزیر خارجہ اور  افغان پارلیمنٹ کے اسپیکر سے ملاقاتیں کرنا تھیں۔ پارلیمانی وفد کے دورے کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد بحال کرنا اور افغانستان کے راستے وسط ایشیائی ممالک کے لیے برآمدات میں رکاوٹوں کے معاملے پر بات چیت کرنا تھا۔ اس کے علاوہ وفد نے پاکستان اور  افغانستان کے درمیان تجارت بڑھانے اور  پاک افغان سرحد پر بسنے والی آبادی کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنے کے امور  پر  بھی تبادلہ خیال کرنا تھا۔ پاکستان کے پارلیمانی وفد کے دورے کے لیے کابل کی شاہراہوں کو  پاکستان اور افغانستان کے پرچموں سے سجایا گیا تھا اور  سڑکوں پر دونوں ممالک کے  اراکین پارلیمنٹ کی تصویریں اور  بینرز  بھی آویزاں کیے گئے تھے۔ تاہم اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں ہونے والے پاکستان کے پارلیمانی وفد کا تین روزہ دورہ اچانک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ سربراہ پارلیمانی سیکرٹریٹ نے دورے کی منسوخی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اسد قیصر کا دورہ کابل سکیورٹی وجوہات کی بناء پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔ نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق نے بھی دورے کی منسوخی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا جہاز کے کابل ائیرپورٹ پر لینڈنگ سے پہلےکنٹرول ٹاور نے ائیرپورٹ بندش سے آگاہ کیا۔ نمائندہ خصوصی محمد صادق نے بتایا کہ دورے کی نئی تاریخ کا اعلان دونوں ممالک کی مشاورت سے دوبارہ کیا جائے گا۔