سینیٹ میں نئے قرضے لینے، پرانے واپس کرنے کی اہم تفصیلات پیش

چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ اجلاس ہوا۔ وقفہ سوالات میں وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے این ایف سی میں سے صوبوں کے 154 ارب کی کٹوتی کے سوال کا جواب جمع کراتے ہوئے کہا کہ این ایف سی سے کسی قسم کی کٹوتی نہیں ہوئی، وفاق یہ حق ہی نہیں رکھتا کہ ایوارڈ سے صوبوں کی کٹوتی کرے، 154 ارب کی کٹوتی کا سوال ہے، جب اختیار ہی نہیں تو کٹوتی بھی نہیں۔

وزارت خزانہ نے تحریری جواب جمع کراتے ہوئے بتایا کہ 2018 سے 2020 کے دوران حکومت نے قومی مالیاتی اداروں سے 4.5 ٹریلین روپے کے اندرونی قرضہ جات حاصل کیے، حکومت نے شیڈیولڈ بینکوں سے 1.8 ٹریلین اور اسٹیٹ بینک سے 3.6 ٹریلین روپے قرض لیا۔

وزارت خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران حکومت نے بین الاقومی مالیاتی اداروں سے 5 ارب ڈالرز کا قرضہ لیا اور 16.4 ارب ڈالرز کے بیرونی قرضے جبکہ 19.9 ٹریلین روپے کے اندرونی قرضے واپس کیے گئے۔

مشیر تجارت نے کہا کہ ہماری ایکسپورٹس بڑھنا شروع ہوچکی ہیں ، جنوری 2019میں ایکسپورٹس میں 14 فیصد اضافہ ہوا، کورونا وباء کے دوران ایکسپورٹس میں کچھ کمی آئی، سال 2018، 20 میں ہماری مجموعی ایکسپورٹس میں اضافہ ہوا ہے۔