پاکستان میں کورونا اب تک گیارہ ہزار سے زائد زندگیاں نگل چکا

جمعہ بائیس جنوری کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا سے مزید 47 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جس کے بعد اب اس وبا سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد مجموعی طور پر 11 ہزار 204 ہوگئی ہے۔ این سی او سی کے مطابق کورونا سےایک دن میں 2 ہزار 075 مریض صحت یاب ہوئے جس کے بعد صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 4 لاکھ 82 ہزار 771 ہوگئی ہے۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 35 ہزار 839 کورونا ٹیسٹ کئے گئے، جس کے بعد مجموعی کووڈ 19 ٹیسٹس کی تعداد 75 لاکھ 61 ہزار 977 ہوگئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید ایک ہزار 745 مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، اس طرح پاکستان میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 5 لاکھ 28 ہزار 891 ہوگئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک سندھ میں 2 لاکھ39 ہزار 186 ، پنجاب میں ایک لاکھ 52 ہزار 158، خیبر پختونخوا میں 64 ہزار 651، اسلام آباد میں 40 ہزار 548، بلوچستان میں 18 ہزار 696، آزاد کشمیر میں 8 ہزار 753 اور گلگت بلتستان میں 4 ہزار 899 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک بھر میں کورونا کے فعال مریضوں کی تعداد34ہزار916 ہے۔ جب کہ2 ہزار سے زائد مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیراختیارکرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازے کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکربیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔ سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پرکوئی اثرنہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔ پا نی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اورہرایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔یہاں یہ بات نہایت اہم ہے کہ سب کی نظریں اس بات پر جم چکی ہیں کہ کورونا وائرس کی ویکسین پاکستان میں کب دستیاب ہو گی، یہ حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان جیسے ممالک میں ویکسین کی دستیابی بہت جلد بھی ممکن ہوئی تو اس میں ہفتوں نہیں بلکہ مہینے لگیں گے، اور ویکسین کی پہلی کھیپ اتنی نہیں ہو گی کہ ملک کی تمام بائیس کروڑ آبادی کو ویکسین کی کم از کم پہلی خوراک لگ سکے۔ اس لیئے فی الوقت احتیاط ہی واحد علاج ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو ساری توجہ عوام کو احتیاط یقینی بنانے پر آمادہ کرنے پر دینی چاہیے، چاہے اس کے لیئے سخت اقدامات ہی کیوں نہ اٹھانا پڑیں۔ وگرنہ خمیازہ قیمتی جانوں کیی بڑی تعداد کی صورت میں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔