بچوں سے جبری مشقت کے معاملے کے حقائق جاننے کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے کمیشن قائم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بچوں سے جبری مشقت کے حقائق جاننے کے لیے کمیشن قائم کردیا۔ ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) اسلام آباد حمزہ شفقات عدالتی حکم پر بھٹے سے بازیاب بچوں کے ساتھ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ اس موقع پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ بچوں سے جبری مشقت لینا 21 ویں صدی میں غلامی کی بدترین قسم ہے، بھٹے والے بچوں کے والدین کو قرض دیتے ہیں پھر ان کے بچوں کو یرغمال بنالیتے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بچوں کو اغوا کرکےجبری غلام کی طرح رکھنےسے بڑاکوئی ظلم ہو نہیں سکتا، اس کیس کو ایسی مثال بنائیں گے کہ آئندہ کوئی ایسا ظلم کرنے کی ہمت نہ کرے۔ عدالت عالیہ نے بچوں سے جبری مشقت کے حقائق جاننے کے لیے کمیشن قائم کردیا، ڈی سی اسلام آباد کی سربراہی میں کمیشن ایک ماہ میں حقائق کا جائزہ لےگا۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ مہینے بعد آپ عدالت کوبتائیں کہ اب جبری مشقت کاایک بھی کیس نہیں رہ گیا،لوگوں کے کاروبار بند ہوتے ہیں تو ہوجائیں لیکن جبری مشقت برداشت نہیں ہوگی۔ عدالت نے حکم دیا کہ بازیاب ہونے والے بچوں کی تعلیم اور ویلفیئر کا معاملہ بھی ریاست دیکھے۔