اسلام آباد میں گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ ، جاں بحق ہونے والا 21 سالہ نوجوان کون تھا جسے پولیس نے ڈاکو سمجھ کر مار دیا ؟تفصیلات سامنے آ گئیں

اسلام آباد:اینٹی ٹیرازم سکواڈ کی اندھا دھند فائرنگ سے جاں بحق ہونے والا نوجوان طالبعلم نکلا  ، گاڑی کی ونڈ سکرین ،دونوں سائیڈز اور پیچھے بھی گولیوں کے نشان ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کے علاقے جی 10 میں اے ٹی ایس اہلکاروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے نوجوان کی شناخت 21 سالہ اسامہ ولد ندیم کے نام سے ہوئی ہے جو کہ سیکٹرجی 13 کا رہائشی تھا ، اہلکاروں نے نوجوان کی گاڑی پر  22 گولیاں ماریں، گاڑی میں سے اسلحہ تو دور کی بات ایک چھری تک بھی برآمد نہ ہوئی ۔ پولیس کا موقف ہے کہ رات گئے سیکٹر ایکس 13 میں ڈکیتی کی واردات ہوئی تھی جس کی کال چلنے پر گاڑی کو جی10 سگنل کے قریب روکنے کی کوشش کی گئی لیکن گاڑی نہ رکنے پر تعاقب کیا گیا اور بعدازاں فائرنگ کی گئی ۔ پولیس نے نوجوان کی لاش کو ہسپتال منتقل کر دیاہے اور ورثاءبھی پہنچ گئے ہیں ۔آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی اسلام آباد نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ٹیم تشکیل دیدی ہے ، ٹیم فائرنگ کے واقعہ کی تمام زاویوں سے تحقیقات کرے گی اور 24 گھنٹوں کے بعد رپورٹ سامنے لائے جائے گی ۔بتایا گیاہے کہ نوجوان گاڑی میں اکیلا تھا ۔جن اہلکاروں نے گاڑی پر فائرنگ کی انہیں پولیس کی جانب سے حراست میں لے لیا گیاہے ۔ترجمان پولیس کا کہناہے کہ رات گاڑی میں سوار ڈاکو شمس قالونی میں ڈکیتی کی کوشش کر رہے تھے تاہم اے ٹی ایس پولیس اہلکاروں نے گاڑی کو مشکوک جان کر پیچھا کیا اور روکنے کی کوشش کی لیکن گاڑی نہ روکنے پر گاڑی پر فائرنگ کر دی گئی ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اگر گاڑی کا تعاقب کر کے فائرنگ کی گئی تو پھر گولیاں کے نشانات گاڑی کے پچھلے حصے پر ہونے چاہیے تھے لیکن گاڑی کی ونڈ سکرین پر بھی گولیوں کے نشانا ت ہیں ، گاڑی کو روکنے کیلئے پروٹوکول کے مطابق ٹائر پر فائر کیا جاتاہے لیکن گاڑی پر ایسا کوئی بھی منظر نظر نہیں آ رہاہے ۔ڈی آئی جی آپریشن کی زیر نگرانی ایس پی سی ٹی ڈی اور ایس پی صدر پر مشتمل ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے جو تحقیقات کرے گی۔