پی ڈی ایم کا کوئٹہ جلسہ، اپوزیشن رہنمائوں کا لہجہ مزید سخت

جمعیت علمائے (ف) اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہم نے ملک کوسی پیک اور بڑے بڑے منصوبے دیئے آپ نے قوم کو انڈے اور مرغیاں دیں۔جسٹس قاضی فائز عیسی کے فیصلے کے بعد وزیراعظم اور صدر کو مستعفیٰ ہوجانا چاہیے۔یہ کشمیر فروش ہیں، انہوں نے کشمیر کا سودا کیا۔ مولانافضل الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا۔ہم کسی کو بھی چھوٹے صوبوں کے حقوق نہیں چھیننے دیں گے، ہم کسی کو اٹھارویں ترمیم یا این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کی قطعاً اجازت نہیں دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کا آخری بجٹ ساڑھے پانچ فیصد تھا جو کہ اگلے سال ان نالائقوں نے تخمینہ کو ایک اعشاریہ آٹھ پر لے آئے ۔ پچھلے سال کا ان کا بجٹ صفر سے بھی نیچے آگیا ۔ انہوںنے کہا کہ ایک وقت تھا ہماری معیشت مضبوط تھی اور واجپائی چل کر لاہور آیا اور کہا کہ ہمارے ساتھ تعلقات بڑھاﺅ اور تجارت کرو لیکن ان کی بدترین خارجہ پالیسیو ں کی وجہ سے آج انڈیا تو درکنارافغانستان ، ایران بھی تجارت نہیں کرنا چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا کہ چین کے ساتھ ہماری دوستی کی مثالیں دی جاتی تھیں، سعودی عرب ہمارے ساتھ مثالی تعلقات تھے انہوںنے ہر مشکل وقت میں ہماراساتھ دیا لیکن ان نااہلوں نے چین کے ساتھ بھی تعلقات خراب کیے اور سعودی عرب کو بھی ناراض کر دیا۔ انہوںنے کہا کہ انصاف کے نام پر عمران خان نے نوجوانوں کو دھوکا دیا ہے، ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسہ دے کر عوام کو پاگل بنایاگیا، ایک کروڑ نوکریاں تو جب سے پاکستان بنا تب سے نہیں نکلیں یہ پانچ سال میں کیسے دے سکتاہے۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے ایوب اسٹیڈیم میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے سے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ میں آج گلگت بلتستان کے پہاڑوں سے مخاطب ہوں، پی ڈی ایم کے گوجرانوالہ جلسے نے اسلام آباد کو واضح پیغام بھیجا جبکہ کراچی کے عوام نے کامیاب جلسہ کرکے ریفرنڈم کا فیصلہ سنایا، مگر حکومت کہتی ہے کہ اپوزیشن کا مزار قائد پر جلسہ ناکام رہا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اپنے حقوق لینا جانتے ہیں، بلوچستان کے عوام کا سر کٹ سکتا ہے مگر جھک نہیں سکتا، بڑے صوبے کے باوجود کیا اس کی قسمت میں لکھاہے کہ ہمیشہ غریب رہیں گے، واضح کردوں کہ کہیں نہیں لکھا بلوچستان کےعوام سلیکٹڈ کےغلام رہیں گے، بلوچستان کے عوام جمہوری آزادی چاہتےہیں، یہاں کی عوام اپنی زمین، وسائل کے مالک ہونےکی آزادی چاہتے ہیں۔

پاکستان جمہوری تحریک کے مرکزی ترجمان میاں افتخار حسین نے کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے زیراہتمام جلسہ عام میں قراردادیں پیش کیں،قراردادوں میں کہاگیاکہ یہ جلسہ عام کوئٹہ شہر میں موبائل سروس اور انٹرنیٹ سروس کی بندش اور میڈیا کی   آزادی  پر قدغنمذمت کر تا ہے۔یہ جلسہ عام عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات اسد خان اچکزئی کی اغواء کی مذمت کرتے ہوئے اس کی فوری بازیابی کا مطالبہ کر تا ہے۔یہ جلسہ عام بلوچستان میں جگہ جگہ سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر عوام کی تذلیل اور تمام چیک پوسٹوں کوختم کرنے کامطالبہ کر تا ہے،قراردادوں میں کہاگیاکہ سندھ اور بلوچستان کے جزائر وفاق کے حوالے کرنا غیرقانونی وغیر آئینی ہے ہم جزائر کو وفاق کے ماتحت کرنے کی مذمت اور مطالبہ کرتے ہیں کہ جزائر کے اختیارات واپس صوبوں کو دی جائے۔یہ جلسہ عام آئین کی حکمرانی،پارلیمنٹ کی بالادستی،جمہوریت کی استحکام کامطالبہ کرتے ہوئے ملک میں مہنگائی،بے روزگاری کاخاتمہ کرنے کامطالبہ کرتی ہے،قراردادوں میں مطالبہ کیاگیاکہ قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس مسترد ہونے کے بعد صدر پاکستان اور وفاقی وزیر قانون کو مستعفی ہوجائیں،پی ڈی ایم کی تحریک نام نہاد وزیراعظم اور ان کی سلیکٹڈ حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گی۔گوجرانوالہ اور کراچی کے جلسوں سے حکومت کے اوسان خطا ہوگئے ہیں یہی وجہ ہے کہ کوئٹہ کے جلسے کے موقع پر انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کردی گئی ہے۔قراردادوں میں کہاگیاکہ رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو کوئٹہ ائیرپورٹ پر روکنے اورانہیں صوبہ بدر کرنے کی مذمت کرتے ہیں،اے این پی قائدین کوبھی بغیر کسی وجہ کے پانچ گھنٹے تک روکے رکھاجس سے حکومت کی بوکھلاہٹ کااندازہ لگایاجاسکتاہے۔