مانچسٹر میں قونصل جنرل پاکستان کی اوورسیز پاکستانیوں کو روشن ڈیجیٹل اکائونٹ اور پاکستان سٹیزن پورٹل پر بریفنگ

مانچسٹر میں پاکستان کے قونصل جنرل طارق وزیر نے حکومت پاکستان کی طرف سے اوورسیز پاکستانیوں کےلئے کئے گئے اقدمات کے حوالے سے کہا ہے کہ تارکین کی شکایات کے لئے ”پاکستان سٹیزن پورٹل “ پروگرام متعارف کروایا گیا ہے جس سے شکایات کا نظام بہتر ہوجائے گا- یہ بات انہوں نے ایک زوم میٹنگ میں بتائی۔قونصل جنرل طارق وزیر کہا کہ اس پروگرام کے تحت پاکستان کے کسی بھی ادارے کے خلاف شکایت فوری طور پر انٹرنیٹ کے ذریعے رجسٹر کروائی جا سکے گی اور اس پر فوری کارروائی ہو گی اور ان شکایات کو مانیٹر بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فزیکلی شکایت درج کروانے میں سستی ہو جاتی ہے جب کہ پوسٹ کے ذریعے شکایت کنندہ کا مسئلہ حل ہونے پر بہت زیادہ وقت لگتا ہے، چنانچہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جس سے لوگوں کو سرعت کے ساتھ انصاف مل سکے، اس نظام کے تحت درج کروائی گئی شکایت فوری طور پر متعلقہ ڈیسک تک پہنچ جائے گی اور اگر کوئی شخص اس کا جواب نہیں دیتا تو یہ اس سے اگلی سطح پر یعنی ”سپر فاسٹ “ پر چلی جاتی ہے جہاں حکومت متعلقہ شخص کو اس شکایت پر عملدرآمد کرنے کا حکم جاری کرتی ہے۔ اس وقت تک 28 لاکھ شکایات درج ہوئی ہیں جن میں سے 26 لاکھ پر فیصلہ ہو چکا ہے – انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس مقصد کےلئے ایک ویب سائٹ بنائی گئی ہے جو 24گھنٹے دستیاب ہے جب کہ اس مقصد کےلئے ایک فون لائن بھی کھولی گئی ہے جس کا نمبر 0092 9000111 ہے – اس ویب سائٹ کو استعمال کرنے کا طریقہ بھی آسان ہے اور جونہی کوئی ویب سائٹ کھولے گا اس کی آٹو میٹک رہنمائی بھی ہو جاتی ہے – انہوں نے اس ویب سائٹ کے استعمال کےلئے ایک ویڈیو بھی میڈیا کے نمائندوں کو دکھائی – قونصل جنرل طارق وزیر نے مزید کہا کہ اس ویب سائٹ کا مقصد سائنس کی جدید ایجادات کے ذریعے شہریوں کے کام کو آسان بنانا ہے اور امید ظاہر کی کہ اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوں گے – طارق وزیر نے ”روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ“ کے حوالے سے بھی آگاہی دی اورواضح کیا کہ یہ اکاؤنٹ ویب سائٹ کے ذریعے کھولا جائے گا – اس اکاؤنٹ کے حوالے سے اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے بہت محنت کی ہے ۔یہ اکاؤنٹ صرف اوورسیزپاکستانیوں کےلئے پیش کیا ہے -یہ اکاؤنٹ پاکستان میں رہنے والوں کےلئے نہیں ہے -یہ اکاؤنٹ پہلی بار ویب سائٹ پر رجسٹریشن کے بعد 48گھنٹوں کے اندر کھل جائے گاجب کہ یہ اکاؤنٹ پاکستان کے کسی بھی بنک میں کھل سکتا ہے – اس میں آپ یہاں سے بیٹھ کر آن لائن پیسے جمع کروا سکتے ہیں ‘ پیسے نکلوا سکتے ہیں اور کہیں بھی ٹرانسفر کر سکتے ہیں – روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اگر پاکستانی روپے میں ہو گا تو اس پر مارک اپ گیارہ فیصد تک ہوگااور اگر یہی اکاؤنٹ غیر ملکی کرنسی میں کھولا جائے گا تو اسپر مارک اپ سات فیصد تک ہو گا – اس اکاؤنٹ کے ذریعے آپ پاکستان میں جائیداد خرید سکتے ہیں ‘ حصص خرید سکتے ہیں نیز ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے ذریعے جائیداد بھی خرید سکتے ہیں-اسی طرح اس اکاؤنٹ کے ذریعے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس خریدنے کی بھی سہولت ہے، یہ سرٹیفکیٹس خریدنے والوں کو مختلف منافع دیا جائے گا، سرٹیفکیٹس پانچ ماہ سے لے کر پانچ سال تک خریدے جا سکتے ہیں اور ہر سطح پر منافع مختلف ہو گا، اس اکاؤنٹ کا فائدہ یہ ہو گاکہ اس میں اکاؤنٹ ہولڈر کا اپنے اکاؤنٹ پر مکمل کنٹرول ہو گا – اس سے غیر قانونی منی ٹرانسفر کو بھی ختم کر دیا گیا ہے اور مڈل مین کو بھی ختم کر دیا گیا ہے – روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی آمدنی پر دس فیصد ٹیکس لیا جائے گا لیکن یہ ٹیکس صرف منافع پر ہوگا – اصل رقم پر نہیں ہوگا- ایک سوال کے جواب میں کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ صرف اوورسیز پاکستانیوں کےلئے ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ اس اکاؤنٹ کی پاکستان کے میڈیا پر تشہیر کی جا رہی ہے حالانکہ ضرورت اس امرکی ہے کہ اس اکاؤنٹ کی بیرون ملک مقیم پاکستانی میڈیا پر تشہیر کی جائے تاکہ لوگوں کو اس سے آگاہی ہو -قونصل جنرل طارق وزیر نے کہا کہ پاکستان میں تشہیر کرنے کا مقصد وہاں پر اوورسیز پاکستانیوں کے عزیز و اقارب کو آگاہ کرناہے کہ وہ اکاؤنٹ کھولیں – اس موقع پر کمیونٹی ویلفیئر اتاشی فضہ نیازی،کمرشل اتاشی محمد اختر بھی موجود تھے -اس ذوم میٹنگ میں مقامی صحافیوں،کمیونٹی رہنمائوں سمیت دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیاجس میں بیرسٹر امجد ملک،طاہر چوہدری،محبوب الٰہی بٹ، شوکت قریشی،نائلہ شریف،محمد سرور، شہزادراچڈیل شامل تھے۔