قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس آئین اور قانون کے خلاف ہے:سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ جاری

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس پر تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔ اپنے تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے لکھا کہ ان کے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کا فیصلہ جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریر کیا جو 224 صفحات پر مشتمل ہے۔فیصلے کے آغاز میں سورۃ النساء کا حوالہ دیا گیا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ جسٹس فائز عیسی کے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی قرار نہیں دیا جا سکتا، ان کے خلاف ریفرنس فیض آباد دھرنا کیس نہیں بلکہ لندن جائیدادوں کی بنیاد پر بنا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس آئیں اور قانون کے خلاف ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ صدر مملکت نے وزیر قانون اور اٹارنی جنرل سے اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا، یہ دونوں حضرات ریفرنس بنانے کےعمل میں شامل ہونے کا اعتراف کر چکے ہیں، یہ کہنا درست نہیں کہ جسٹس فائز عیسیٰ فیصلے سے لاعلم تھے، جسٹس فائز عیسیٰ نے تسلیم کیا کہ انہوں نے ریفرنس کے نکات پڑھے تھے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ایک حاضر سروس جج کیخلاف انکوائری کرنا کونسل کا کام ہے نہ کہ کسی اور کا۔ کوئی بھی جج قانون سے بالاتر نہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریفرنس نمبر ایک 2019 کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ درخواست گزار کو 17 اگست 2019 کو جاری نوٹس واپس لیا جاتا ہے۔ریفرنس کے مواد کی تحقیق کرنے والے صدر مملکت کو بریفنگ دےسکتے ہیں مشورہ نہیں۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فیصلے کے 7 روز کے اندر ان لینڈ ریونیو کمشنر خود متعلقہ نوٹسز قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچوں کو جاری کریں۔ ایف بی آر نوٹسز میں جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ اور بچوں سے برطانیہ میں خریدی جائیدادوں کے ذرائع آمدن پوچھے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ نوٹسز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سرکاری رہائش گاہ پر بھیجے جائیں۔ ایف بی آر کے نوٹسز پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور بچے متعلقہ تفصیلات پر جواب دیں۔ دستاویزی ریکارڈ کے ساتھ ایف بی آر کو جواب دیے جائیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی ریکارڈ پاکستان سے باہر کا کہا ہے تو متعلقہ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ بروقت فراہم کریں۔ انکم ٹیکس کمشنر اپنی کارروائی میں کسی موڑ پر التوا نہ دے۔

اس سے قبل جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 10 رکنی لارجر بینچ نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی سماعت کی تھی اور ان کے کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔