کراچی ایف آئی آر تنازعہ، تانے بانے وفاقی حکومت سے جا ملے تو کیا ہو گا

(نوائے وطن خصوصی رپورٹ) کراچی سے اٹھنے والے انتظامی وسیاسی بحران کی لپیٹ میں کون آئے گا، اس حوالے سے فریقین ایک دوسرے کو ٹارگٹ کر رہے ہیں،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے فوری ایکشن کے بعد یہ معاملہ منطقی انجام تک پہنچنے کا انتظار کیا جاتا، اس امر کو اپوزیشن نے تو سراہا بھی اور لگا کہ شور شرابہ تھم جائے گا مگر وزیراعظم عمران خان کی کابینہ کے وزرا کسی طور اس صورتحال کو ہضم نہیں کر رہے، اس وجہ سے سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں کی توجہ معاملے کے ایک اور پہلو کی جانب چلی گئی ہے، سوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں کہ کیا وفاقی حکومت جو اپنے آپ کو اس سارے فساد سے الگ رکھنے اور باقی سب کو اس میں گھسیٹنے کے لیئے کوشاں ہے، ہی اصل میں ملوث ہے، معروف اینکر و تجزیہ کار صحافی حامد میر اپنے ٹویٹس اور پروگراموں میں اس جانب کھلے اشارے دے رہے ہیں کہ کراچی معاملے میں وفاقی وزرا براہ راست ملوث ہیں، اس حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز سے سوال پوچھا گیا تو انہوں نے اس امر کی تردید کرنے کی بجائے برجستہ کہہ دیا کہ جو وفاقی وزیر ملوث ہو گا وہ بھی جائے گا، اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے بھی کہا ہے کہ صرف گورنر سندھ کے جانے سے کام نہیں چلے گا، مختلف مباحثوں، پریس کانفرنسز اور ٹویٹس میں اب تک جو نام سامنے آئے ہیں ان میں گورنر سندھ، وفاقی وزیر علی زیدی اور فیصل واوڈا کے نام سامنے آئے ہیں۔ لیکن سینئر صحافی سلیم صافی نے لگی لپٹی رکھے بغیر وزیراعظم عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپوزیشن کو لڑانے کا اصل منصوبہ ساز قرار دے دیا ہے۔

اپنے تازہ ترین وی لاگ میں سینئر صحافی سلیم صافی نے دعوی کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان جب سے اقتدار میں آئے ہیں ان کی سیاست رہی ہے کہ کس طرح اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن کو لڑوا دیں، مقتدار حلقوں کا اپنا ارادہ نہیں تھا کہ زرداری صاحب اور ان کی پارٹی کو سزا دی جائے، اسی طرح ن لیگ کے حوالے سے بھی مقتدر حلقے یہ سب عمران خان صاحب کی بھلائی میں ایسا چاہتے تھے تا کہ ان کی حکومت بہتر طریقے سے چلے۔

سلیم صافی نے اپنے تجزیے میں وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت کےواقعات کی مثالیں پیش کیں اور کہا اسٹیبلشمنٹ کو مشکل میں ڈالنے کےسارے کام عمران خان اور ان کی حکومت کی طرف سے نہایت منصوبہ بندی کے تحت کیئے جا رہے ہیں، سلیم صافی نے عمران خان کو انتہائی ہوشیار اور ذہین بھی قرار دیا، وہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپوزیشن کو اشتعال میں لا کر اسٹیبلشمنٹ کے سامنے لانا چاہتے ہیں تا کہ مقتدر حلقے دبائو میں رہیں اور عمران خان پر ان کا انحصار رہے۔

الزامات، انتشار، اداروں کے ٹکرائو و ملوث کرنے کے تاثر پر مبنی سیاسی سازشی ماحول میں اگر وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کے ارکان تک تانے بانے جا نکلے تو پھر کیا ہو گا، اپوزیشن خاص کر ن لیگ تو پہلے ہی انتہائی پوزیشن لے چکی، سلیم صافی کی بات سچ نکلی اور وزیراعظم عمران خان کی سوچ بھی ن لیگ کے قائد نواز شریف سے بڑھ کر نکلی تو پھر کیا ہو گا، مملکت کا نظام کیسے چلے گا، ریاستی اداروں کا ایک دوسرے پر اعتماد کیسے برقرار رہ سکےگا،ملک کو سیاسی عدم استحکام کا شکار ہونے سے کیسے روکا جا سکے گا، یہ وہ اہم سوالات ہیں جن کا جواب تلاش کیا جا رہا ہے۔

سلیم صافی کے مذکورہ تہلکہ خیز وی لاگ کا لنک قارئین کی دلچسپی کے لیئے یہاں شیئر کیا جا رہا ہے۔ https://youtu.be/dFjvw5qr12s