جنرل باجوہ سے بلاول کا ورکنگ ریلیشن شپ استوار ہونے سے روکنے کے لیئے نواز شریف لندن سے متحرک

(نوائے وطن اسپیشل رپورٹ) کیپٹن (ر) صفدر گرفتاری معاملہ، سندھ میں سیاسی و انتظامی بحران کے خاتمے کے لیئے آرمی چیف کا کردار ن لیگی قیادت کو پریشان کر گیا، معاملات بگاڑنے کی کوششیں شروع ہو گئی ہیں اور جنرل باجوہ سے بلاول کا ورکنگ ریلیشن شپ استوار ہونے سے روکنے کے لیئے میاں نواز شریف لندن سے متحرک ہو گئے ہیں

پیپلز پارٹی کی قیادت نے نواز شریف کے فوجی قیادت کو ٹارگٹ کرنے کے بیانیے کو سپورٹ نہیں کیا اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جلسوں میں کی گئی ن لیگ کے قائد نواز شریف کی تقاریر کو نامناسب قرار دے کر عملی طور پر اس بیانیے سے لاتعلقی ظاہر کر دی تھی۔ اب کراچی میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ایف آئی آرکے اندراج، گرفتاری اور اس حوالے سے سندھ پولیس کے ردعمل کے بعد ناخشگوار صورتحال کو سنبھالا دینے کے لیئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہنگامی مداخلت نے ن لیگی قیادت کو پریشانی سے دوچار کر دیا ہے، میاں نواز شریف، مریم نواز شریف اور ان کے بیانیے کو کسی حد تک سپورٹ کرنے والے ن لیگی رہنمائوں کو شائید اس فکر نے پریشان کیا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری اور فوجی قیادت کے درمیان ان رابطوں میں اعتماد کا وہ رشتہ قائم نہ ہو جائے جس کے وہ خود بھی ہمیشہ سے متلاشی رہے ہیں اور اس حوالے سے آخری کوشش سابق گورنر سندھ محمد زبیر کے ذریعے بھی کر چکے ہیں۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سنبھلتے معاملے میں پی ڈی ایم خاص کر پیپلز پارٹی کی قیادت کے متوازن کردار سے مایوس ہو کر عدلیہ کو اس جانب متوجہ کیا ہے اور کہا ہے ایک افسر کو اغوا کیا گیا، عدالتوں نے نوٹس نہیں لیا، معروف صحافی روئوف کلاسرا کے خدشات کو سامنے رکھیں تو شاہد خاقان عباسی کو یہ لائن لندن سے ہی فراہم کی گئی ہے تا کہ ماحول بدستور گرم رہے اورملک سیاسی استحکام کی طرف نہ بڑھ سکےجو اپوزیشن کی تحریک خاص کر میاں نواز شریف کے بیانیے اور عمران حکومت گرانے کے مقصد کے لیئے انتہائی ضروری ہے۔ ایک روز قبل رئوف کلاسرا نے اپنے وی لاگ میں بتایا تھا کہ لندن سے اب فوج کے سربراہ کو مزید نشانہ بنانے کی ہدایات جاری ہوئی ہیں، لگتا ہے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جمعرات بائیس اکتوبر کی میڈیا گفتگو میں اسی نئی ہدایات کو آگے بڑھایا گیا ہے۔

سندھ پولیس کی قیادت کے ردعمل اور سندھ حکومت کے سخت موقف کے نتیجے میں سیاسی عدم استحکام کی جو فضا تیزی سے بنی تھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے فوری ایکشن کی بدولت معاملات درست سمت میں گامزن ہو گئے ، ن لیگ کو یہ سب ہضم نہیں ہو رہا جس کے بعد یہ امر قرین قیاس لگ رہا ہے کہ پی ڈی ایم کی جماعتوں کی مرکزی پالیسی کا یہ ٹکرائو اپوزیشن اتحاد کو پھلنے پھولنے سے پہلے ہی مرجھا دے گا۔ پیپلز پارٹی کے اندر یہ سوچ پہلے سے موجود ہے کہ پی ڈی ایم کو اگر صرف نواز شریف کے بیانیے کو آگے بڑھانے کا فورم بنایا گیا تو وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے، اب جس طرح ن لیگ کی قیادت کراچی معاملات سنبھلتے دیکھ کر ری ایکٹ کر رہی ہے اس سےان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ ن لیگ ایک بار پھر پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کو استعمال کرنے کے درپے ہے۔