امریکہ بھارت نئی گریٹ گیم، خدوخال واضح ہونا شروع ہو گئے

 اسلام آباد (ایس آئی ایس) امریکہ اور بھارت نے سٹریٹجک پارٹنرزبن کر ایشیا میں جو نئی گریٹ گیم شروع کی ہے اس کے خدوخال اب واضح ہونے لگے ہیں ، اس نیو گریٹ گیم کے تحت بحیرہ روم و بحیرہ عرب سے جنوبی و مشرقی بحیرہ چین تک انتہائی تیزی کے ساتھ  ایک “نئے نیٹو” کی بنیادیں استوار کی جا رہی ہیں ، امریکہ ، آسٹریلیا ، جاپان اور بھارت  پر مشتمل  “کوارڈ” اس ” نیونیٹو” کا محض ایک ونگ ہے ، حقیقت یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ ، وسط ایشیا ، جنوبی ایشیا اور مشرقی ایشیا میں  امریکی کیمپ کا حصہ بن جانے والے ممالک کو ایک نئے عالمی عسکری اتحاد کی صورت میں اکھٹا کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں انتہائی جارحانہ سفارتکاری پچھلے کئی ماہ سے جاری ہے ۔
ایس آئی ایس کی اسپیشل انویسٹیگیٹو اسٹوری کے مطابق ٹھیک ایک ہفتے بعد 26 اور 27 اکتوبر کو نئی دہلی میں ” ٹو پلس ٹو” مذاکرات کے دوران امریکہ اور بھارت کے وزرائے دفاع اور وزرائے خارجہ جس “بیکا” معاہدے پر دستخط کرنے جا رہے ہیں وہ دراصل اس ” نیونیٹو” کے عسکری ہیڈ کوراٹرز کے قیام کی غیرعلانیہ تقریب ہے ، “نیونیٹو” میں ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی کو وہی مقام حاصل ہونے جا رہا ہے جو نیٹو  کے قیام کے وقت فرانس کے دارالحکومت  پیرس کو اور آج کل  بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز کو حاصل ہے، نیٹو کا پہلا ہیڈ کوارٹرز اس تنظیم کی تشکیل  کے وقت 1949 میں  پیرس میں قائم کیا گیا تھا لیکن  1966 میں امریکی صدر لنڈن بی جانسن اور  فرانس  کے مرد آہن صدر چارلس ڈیگال کے درمیان نیٹو کے ایٹمی ہتھیاروں کی فرانس میں موجودگی کے ایشو پر پیدا ہونے والے اختلافات کے بعد  فرانس نے اپنی افواج کو نیٹو کمانڈ سے نکال کراس عسکری اتحاد میں  اپنی مرکزی پوزیشن کو “ڈائون گریڈ” کر لیا جس کی وجہ سے امریکہ روس سرد جنگ کے عروج کے دنوں میں نیٹو کے ایٹمی میزائلوں کو ہنگامی طور پر دوسرے ممالک میں منتقل کرنا پڑا اور پھر جلدی میں نیا نیٹو ہیڈکوارٹرز  بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں قائم کیا گیا جو مغربی  یورپ کی تین بڑی  فوجی قوتوں جرمنی ، فرانس اور برطانیہ کے درمیان واقع ہے ۔
نیٹو NATO دراصل ” نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن” کا مخفف ہے جس کا مطلب ہے “شمالی بحراوقیانوس معاہدے کی تنظیم”۔۔۔ یہ تنظیم رکن ممالک کے دفاع کے نام پر سوویت یونین کی پیش قدمی روکنے یا اس کا گھیرائو کرنے  کیلئے قائم کی گئی تھی لیکن پھر اس کے مقاصد میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور نیٹو افواج نے افغانستان ، عراق ، شام سمیت دنیا کے کئی ممالک میں عسکری کارروائیاں کیں جس کے بعد نیٹو کا لفظ امریکہ کے اُن عسکری اتحادیوں عکاس بن گیا کہ جو روس یا سوویت یونین کا گھیرائو کرنے کے عمل میں اس کے ساتھ تھے ، اب امریکہ چین کا گھیرائو کرنےکیلئے ایک بالکل ویسی ہی عالمی عسکری تنظیم قائم کرنے جا رہا ہے ، اس نئی تنظیم کا نام جو بھی  رکھا جائے ، عام آدمی کو سادہ  الفاظ میں سمجھانے کیلئے ہم اسے”نیونیٹو” بھی کہہ سکتے ہیں ، کیونکہ اس نئی تنظیم کے مقاصد کم وبیش  وہی ہیں جو نیٹو کے تھے ، فرق صرف اتنا ہے کہ  نیٹو شمالی بحر اوقیانوس کے ممالک پر مشتمل تھی اور نیو نیٹو بحرہند کے ممالک میں قائم کی جا رہی ہے ، پہلے ہدف روس تھا اور اب  چین کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے ۔
 چین نے اپنے اس ممکنہ  گھیرے کو توڑنے کیلئے “اسٹرنگ آف پرلز” یعنی موتیوں کی لڑی  کے نام سے دو تین عشرے قبل  اپنی مشہور زمانہ عسکری اسٹریٹجی بنائی جس کے تحت جنوبی بحیرہ چین ، خلیج بنگال ، بحر ہند ، بحیرہ عرب ، خلیج عدن ، بحیرہ قلزم اور بحیرہ روم کے دوست ممالک میں فوجی اڈوں اور بندرگاہوں کے کچھ موتی جڑے گئے تاکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے اپنی عالمی تجارت کو درپیش خطرات کا سد باب کر سکے اور کسی ممکنہ جنگ کی صورت میں بحری ناکہ بندی کی صورتحال سے بچ سکے ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے چار سالہ دور حکومت کے دوران  چین کیخلاف مسلسل جارحانہ اقدامات جاری رکھے اس دوران سی آئی اے اور پینٹاگون نے چین کی اسٹرنگ آف پرلز میں شامل ممالک پر خاموشی سے کام جاری رکھا ، ڈیفینس اینڈ سٹریٹجک اسٹڈیز کے ماہرین اسے “نیوگریٹ گیم” قرار دے رہے ہیں ، اس ” نئےعظیم کھیل”  کے تحت امریکہ نےایک طرف  چین کے ساتھ عسکری و معاشی  تعلقات بڑھانے والے عرب اور افریقی ممالک کے حکمرانوں کو مختلف طریقوں سے اپنے جال میں پھنسایا تو دوسری طرف مشرقی ایشیا کے مختلف ممالک کو فراخدلانہ معاشی امداد کے ذریعے چین کی جھولی میں گرنے سے روکنا شروع کر دیا ۔ اس دوران جنوبی بحیرہ چین ، خلیج بنگال ، بحر ہند ، بحیرہ عرب ، خلیج عدن ، بحیرہ قلزم اور بحیرہ روم کے مختلف ممالک میں موجود سی آئی اے  کے “آزمودہ اثاثوں” کو حرکت میں لایا گیا  اور اُن ممالک کی حکومتیں تبدیل کرنے کے ایک خفیہ منصوبے پر کام شروع کر دیا گیا جو چین کے ساتھ اپنے بڑھتے ہوئے تعلقات کے معاملے میں “گوسلو” فارمولا اپنانے پر تیار نہیں ہو رہے تھے ۔
اس گریٹ گیم کے تحت پہلے مرحلے میں عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو بہتر کیا گیا ، دوسرے مرحلے میں بااثرعرب ممالک کو اپنے زیر اثرممالک میں چینی اثرونفوذ کو محدود کرنے کا ٹارگٹ دے دیا گیا ، جو ممالک اس فارمولے کے باوجود “راہ راست” پر آنے کیلئےتیار نہیں ہو رہے تھے اُن میں سیاسی و معاشی بحران پیدا کرکے حکومتیں بدلنے کے منصوبے پر کام جاری ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ چین کے جن دوست ممالک میں حکومتیں بدلنا ممکن نہ ہوا، وہاں دبائو اتنا بڑھا دیا جائے گا کہ برسراقتدار حکمران  اپنی چین دوستی کے عمل کو “گوسلو” کرنے پر تیار ہو جائیں ، تیسرے اور آخری مرحلے میں “نخرے” کرنے والے ممالک کو ویسا ہی ” آخری پیغام ” دیا جائے گا کہ جس طرح کا پیغام امریکہ نے پاکستانی صدر پرویز مشرف کو دیا تھا کہ کوئی درمیانی راستہ نہیں ، دوٹوک جواب دیں کہ آپ ہمارے دوست ہیں یا دشمن ؟
 ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ آخری پیغام بنگلہ دیش ، برما اور لائوس  کودیدیا گیا ہے ، پاکستان اور ملائیشیا میں حکومتیں بدلنے یا موجودہ حکمرانوں کو “چین دوستی” کے عمل میں “گوسلو” پالیسی اختیار کرنے پر مجبور کرنے کا عمل جاری ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں اسلامی ممالک کے جن  رہنمائوں کو اسلامی کانفرنس تنظیم کے پلیٹ فارم سے چین کی اسٹرنگ آف پرلز یعنی موتیوں کی لڑی کو مفلوج کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے ان میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ، ابوظہبی کے ولی عہد اورامارات کے نائب وزیراعظم  شہزادہ محمد بن زاید النہیان ، دوبئی کے امیر اور متحدہ عرب امارات کے وزیراعظم شہزادہ محمد بن راشد المکتوم ، پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ، ملائیشیا کے سابق نائب وزیراعظم انور ابراہیم ، بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اور افغانستان کے صدر اشرف غنی شامل ہیں ۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ  اس بڑے منصوبے کے تحت میاں محمد نواز شریف کو پاکستان اور انورابراہیم کوملائیشیا کا وزیراعظم منتخب کروایا جائے گا اور طالبان کے ساتھ دوحہ امن معاہدے کو لٹکا کر افغانستان میں اشرف غنی کے اقتدار کو طول دیا جائے گا ۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نئی گریٹ گیم  کے تحت پاکستان اور ملائیشیا میں حکومتوں کی تبدیلی پر کام شروع ہے ، سعودی عرب اور امارات اس سلسلے میں کلیدی کردارادا کر رہے ہیں۔
 ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے ساتھ مل کر جن دو اسلامی ممالک کے سربراہان نے امریکہ  اور سعودی عرب کی اجارہ داری سے آزاد خارجہ پالیسی والے اسلامی بلاک کی تشکیل کا عزم ظاہر کیا تھا اُن میں سے ایک ملک  ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کو تو گھر بھجوایا جا چکا ہے ، وہاں عبوری عرصے کیلئے یکم مارچ 2020 کو محی الدین یاسین وزیراعظم منتخب ہوئے ، اب 6 ماہ بعد ہی ان کے اقتدار کی کشتی ہچکولے کھا رہی ہے اور اقتدار کا ہما انور ابراہیم کے سر پر منڈلا رہا ہے جو ایک اصلاح پسند رہنما کے طور پر مغربی ممالک میں بہت مقبول ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے وہی ایک ایسے لیڈر ہیں کہ جو ملائیشیا کو چین کی جھولی میں گرنے سے بچا سکتے ہیں ، یاد رہے کہ انور ابراہیم کو کرپشن اور دوسرے اخلاقی جرائم میں ملوث ہونے کی وجہ سے پچھلے دو عشروں کے دوران  طویل قید کاٹنا پڑی ، لیکن دو سال پہلے  اچانک ایک  “این آراو” کے تحت شاہی فرمان کے ذریعے اُن کی سزائیں “ختم” کر کے سیاست میں حصہ لینے کا اہل قرار دیدیا گیا،  وہ آج کل  ملائیشیا کے بادشاہ سے ملاقات کر کے پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کر لینے کے دعویدار ہیں اور اپنے حامی ارکان پارلیمنٹ کی ایک فہرست بھی پچھلے ہفتے بادشاہ کی خدمت میں پیش کر چکے ہیں ، یاد رہے کہ مہاتیر محمد کی حکومت کے خاتمے کے بعد  موجودہ وزیراعظم محی الدین یاسین کی حکومت یکم مارچ 2020 کو صرف 2 ووٹ کی اکثریت کے ساتھ قائم ہوئی تھی ۔
پاکستان میں اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک میں جارحانہ تیزی بھی اُس وقت آئی ہے کہ جب وزیراعظم عمران خان اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے ترکی اور ملائیشیا کے ساتھ مل کر نئے اسلامی بلاک کا ارادہ کھل کر ظاہر کیا جانے لگا اور اس اقدام نے سعودی ولی عہد  شہزادہ محمد بن سلمان کو آگ بگولا کر دیا ، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سی آئی اے کے ” اثاثوں ” کے حرکت میں آنے کے بعد چار پانچ ماہ قبل  حکومت ، عدلیہ ، فوج ، نیب  اور مختلف تحقیقاتی اداروں کی بااثر شخصیات کے رویئے اچانک بدل گئے اور مختلف کرپشن کیسز میں گرفتار اپوزیشن رہنمائوں کو  مقدمات میں اچانک ریلیف ملنا شروع ہو گیا ،پابند سلاسل رہنمائوں کی بڑی تعداد باہر آگئی اور کیسز کے فیصلے بھی اُن کے حق میں دیئے جانے لگے ۔
ذرائع کا یہ دعویٰ ہے کہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی علاج کیلئے بیرون ملک روانگی اور اب حکومت مخالف تحریک میں غیر معمولی شدت کے پیچھے بھی عالمی اسٹیبلشمنٹ کا دبائو کارفرما ہے ، یہ کہا جا رہا ہے کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ یا یوں کہیں کہ ہمارے خطے کے معاملات کا فیصلہ کرنے والی عالمی قوتوں نے مستقبل کے اسلامی بلاک کی قیادت کیلئے جن مسلم رہنمائوں کا نام فائنل کیا ہے اُن میں سابق وزیراعظم پاکستان  میاں محمد نواز شریف بھی شامل  ہیں ،  یہ کہا جا رہا ہے کہ جلد یا بدیریا تو پاکستان میں بھی ملائیشیا کی طرح حکومت تبدیل کرکے ایک آدھ برس  کی عبوری مدت  کیلئے کسی “محی الدین یاسین ” کو وزیراعظم بنا دیا جائے گا ۔ یا فوری مڈٹرم عام انتخابات کروا دیئے جائیں گے،
کچھ لوگ یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ امریکی اور سعودی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے پاکستان میں  اگلے پانچ دس برسوں کیلئے نئے حکمران کے انتخاب کو سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی رضامندی سے مشروط قرار دیدیا گیا ہے، پاک فوج کے سربراہ اور دیگر جرنیلوں کے بارے میں اُن کے انتہائی جارحانہ رویئے کے پس پردہ  بھی اُن کی یہی طاقت ” کارفرما ” بتائی جا رہی ہے  کہ جسے یکسر نظرانداز کرنا پاکساتنی اسٹیبلشمنٹ کیلئے بھی اتنا آسان نہیں رہا ، یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ اگلے سال چھ مہینوں کے دوران انورابراہیم کی طرح نواز شریف  کی سزائیں بھی کسی “شاہی فرمان” کے ذریعے حرف غلط کی طرح مٹا کر خود انہیں بھی چوتھی بار وزیراعظم منتخب کروایا جا سکتا ہے۔ اگر اُن کی وطن واپسی خطرات سے خالی نہ ہوئی تو پھر اُن کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز یا کسی دوسرے ن لیگی رہنما کو وزیراعظم بنانے جانے کا بھی امکان ہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ “نیونیٹو” تشکیل دینے والوں کی طرف سے بنگلہ دیش ، برما اور لائوس کو جو سخت پیغامات دیئے گئے ہیں اُن کی تفصیلات بھی انتہائی سنسنی خیز ہیں ، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ لائوس اور برما نے تو تاحال اپنی “چین دوست پالیسی” بدلنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی اور خاموشی اختیار کر رکھی ہے تاہم بنگلہ دیش کی وزیراعظم محترمہ شیخ حسینہ واجد امریکہ اور بھارت کا مشترکہ دبائو برداشت نہیں کر سکیں اور انہوں نے   فراخدلانہ معاشی پیکج دیئے جانے کے وعدے پرنئی عالمی محاذ آرائی میں غیر جانبدار ہو جانے یا  نئے عسکری اتحاد “نیو نیٹو” میں شمولیت کے مختلف آپشنز پر غور کرنے کا وعدہ کر لیا  ہے ، ذرائع کا کہنا ہے شیخ حسینہ واجد کو  ” آخری پیغام ” دینے کیلئے امریکہ کے نائب وزیرخارجہ اسٹیفن ای بیگن نے 14 سے 16 اکتوبر تک بنگلہ دیش کا دورہ کیا ، اس سے قبل انہوں نے 3 دن بھارت میں گذارے اور نئی دہلی میں خارجہ ، دفاع اور اقتصادی امور سمیت مختلف وزارتوں کے حکام  کے ساتھ مستقبل کے طویل المدت منصوبوں کے بارے میں  انتہائی تفصیلی مذاکرات کیئے ، امریکی ڈپٹی سیکرٹری آف اسٹیٹ نے بنگلہ دیش کی وزیراعظم محترمہ شیخ حسینہ واجد ، وزیرخارجہ ڈاکٹر اے کے عبدالمومن سمیت سرکردہ حکومتی شخصیات کے ساتھ تفصیلی ملاقاتیں کیں اور بنگلہ دیش میں طویل المدت معاشی استحکام ، سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ ، اسٹریٹجک پارٹنر شپ کو فروغ دینے کیلئے مختلف آپشنز پر تبادلہ خیال کیا ۔ ان مذاکرات کے دوران بنگلہ دیش میں پناہ گزین 8 لاکھ 60 ہزار روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ خاص طور پر زیر بحث آیا اور اس مسئلے کے مستقل حل کیلئے ایک عالمی ردعمل (گلوبل رسپانس) تشکیل دینے کی ضرورت اور متوقع  حکمت عملی پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔
امریکی ڈپٹی وزیرخارجہ نے  ساڑھے آٹھ لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے پر بنگلہ دیش حکومت کو پرجوش انداز میں خراج تحسین پیش کیا ، اس دورے کے حوالے سے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر جو اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی وزیرخارجہ نے اپنے پورے دورے کے دوران آزاد ، محفوظ اور کھلی منڈی کی معیشت والے انڈوپیسفک ریجن کے مشترکہ وژن کے تحت دو طرفہ تعلقات کے فروغ دینے  پر بات چیت کی ، بنگلہ دیشی وزیرخارجہ اور امریکی ڈپٹی سیکرٹری آف اسٹیٹ نے مشترکہ بیان میں امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ہیوسٹن میں بنگلہ دیش کا نیا قونصل خانہ کھولنے کا اعلان کیا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں امریکہ کے دوست خلیجی وعرب ممالک میں بنگلہ دیشی اوور سیز ورکرز کی تعداد بڑھانے اور خطے کے امیر اسلامی ممالک کے ساتھ بنگلہ دیش کے معاشی وتجارتی تعلقات کے فروغ کیلئے واشنگٹن کا  اثرورسوخ استعمال کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ  پچھلے کئی عشروں کے دوران امریکہ کی طرف سے بنگلہ دیش کو ہمیشہ نظرانداز کیا گیا، اب اچانک نوازشات کا یہ جو سلسلہ شروع ہوا ہے خود بنگلہ دیش کے اندر بھی اس پر شکوک وشبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ
” ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں “
 بنگلہ دیش پر تازہ ترین امریکی نوازشات پر شکوک کا اظہار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ امریکہ امداد کےنام پر جس غریب اور ترقی پذیر ملک میں بھی گیا   اسے اپنے عالمی سٹریٹجک مقاصد کیلئے بے رحمی کے ساتھ استعمال کیا ، یاد رہے کہ پچھلے 10 برسوں کے دوران کسی امریکی وزیرخارجہ نے ڈھاکہ آنے کی زحمت گوارا نہیں کی ، جان کیری اور ہلیری کلنٹن نے کئی بار بنگلہ دیش کے دورے کی خواہش کا اظہار بھی کیا لیکن بھارت کے ناراض ہوجانے کے ڈر سے پچھلا پورا عشرہ ڈھاکہ سرکار کو نظرانداز کیا جاتا رہا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ لداخ کے محاذ پر چین بھارت محاذ آرائی کے دوران جنوبی ایشیا میں تنہا ہو کر رہ جانے سے گھبرا کر بھارت نے  ہمسایوں کے ساتھ نئے سٹریٹجک تعلقات کو ضرورت کو محسوس کر لیا ہے اس لیئے وزیراعظم مودی کی طرف سے چند ماہ قبل صدر ٹرمپ سے  خاص طور پر درخواست کی گئی  کہ بنگلہ دیش کو چین کے “مرکز ثقل”  کا اسیر ہونے سے بچانے کیلئے امریکہ خود حرکت میں آئے چنانچہ سی آئی اے اور پینٹاگون کے نئے اہداف میں بنگلہ دیش کو بھی شامل کر لیا گیا ، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سی آئی اے اور را کا مشترکہ منصوبہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں موجود ساڑھے آٹھ لاکھ روہنگیا پناہ گزینوں اور بھارت میں موجود ڈیڑھ لاکھ  تبتی پناہ گزینوں کی عسکری تنظیمیں تشکیل دے کر انہیں  چین کیخلاف نئی پراکسی وار میں “استعمال” کیا جائے۔
 بھارتی فوج کی اسپیشل فرنٹیئر فورس کے ساڑھے تین ہزار اہلکاروں میں زیادہ تعداد تبتی پناہ گزینوں کی ہے ، بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایس ایف ایف نامی اس اسپیشل کمانڈو فورس کو 1971 میں مشرقی پاکستان پر حملے اور 1999 میں کارگل جنگ کے دوران پاک فوج کیخلاف استعمال کیا گیا ،  اب  29 اور 30 اگست کی درمیانی رات لداخ کے چوشل سیکٹرمیں  اچانک پیش قدمی  کر کے پینگونگ سو جھیل کے جنوب میں عسکری اہمیت کی اہم چوٹیوں پر قبضہ کرنے کیلئے بھی اسی تبتی کمانڈو فورس کو استعمال کیا گیا، 1962 کی چین بھارت جنگ میں بھی تبت کے پناہ گزینوں کو استعمال کیا گیا ، اس دوران سی آئی اے اور را نے مل کر 12 ہزار تبتی پناہ گزینوں کو جنگی تربیت دی اور یہ لوگ چین کے اندر جا کر حملے اور بم دھماکے کرتے رہے لیکن جب 70 کے عشرے میں پاکستان کی مدد سے چین اور امریکہ کے درمیان سفارتی  تعلقات قائم ہو گئے تو سی آئی اے نے تبت کے پناہ گزینوں پر مشتمل عسکری تنظیموں کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا ۔
چین کیخلاف نئی عالمی محاذ آرائی میں  امریکی آشیر باد پر چین سے نقل مکانی کر کے بھارت میں جلاوطن حکومت قائم کرنے والے تبت کے چودھویں دلائی لاما تینزن گیاتسو کو ایک بار پھر اہم مقام ملنے والا ہے ، ان کے ساتھ  ساتھ تائیوان کی خاتون صدر تسائی انگ وین کو بھی بھارتی میڈیا نے ایک ہیرو کی حیثیت سے پیش کرنا  شروع کر دیا ہے۔
 تائیوان کے قومی دن کی آمد سے تین روز قبل  7 اکتوبر کو بی جے پی کے ایک لیڈر نے نئی دہلی میں چین کے سفارتخانے کے سامنے تائیوان کا قومی پرچم لہرا کر اس کی تصویریں بنوائیں اور پھر سوشل والیکٹرانک میڈیا پر اُن کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی ۔ بھارتی میڈیا میں تبت کے دلائی لاما کے بعد  تائیوان کی صدر تسائی انگ وین کو دوسری سب سے زیادہ مقبول غیر ملکی رہنما اور ایک ہیرو کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ، تائیوان کے قومی دن پر 10 اکتوبر کو بھارتی سوشل میڈیا میں  پروپیگنڈے کا یہ طوفان کچھ زیادہ ہی تیز ہو گیا ،اس دوران تائیوان کی صدر کے ٹوئٹر اکائونٹ میں ایک لاکھ فالورز کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اس وقت صورتحال یہ ہے کہ  چین دشمنی کی وجہ سے  بھارت کے طول وعرض میں “جئے ہند ، جئے تائیوان”  کے نعرے گونج رہے ہیں  ۔ “را” کے اشارے پر  بی جے پی لیڈروں نے تائیوان کے حق میں یہ جو نئی مہم شروع کی ہے اس پر نئی دہلی میں موجود چینی سفارتخانے کو “میڈیاگائیڈ لائنز” کی طرف توجہ دلانا پڑی ، چینی سفارتخانے کے  اس بیان کا بھی بھارتی اور تائیوانی میڈیا نے خوب مذاق اُڑایا اور کہا گیا کہ  لگتا ہے کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی نے خود کو بھارتی برصغیر تک توسیع دیدی ہے ۔ بھارت کے اندر چین کیخلاف جس  نئی جارحانہ سوچ کو فروغ دیا جا رہا ہے اس کا مقصد بھی بھارت کو “نیونیٹو” میں قائدانہ کردار کا اہل ثابت کرنا ہے ، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل بھارت تعلقات کی طرح تائیوان بھارت تعلقات کا بھی ایک نیا دور شروع ہونے جا رہا ہے جس کے تحت بھارت نہ  صرف ون چائنا پالیسی سے علیحدگی اختیار کر لے گا بلکہ “نیونیٹو” میں تائیوان اور بھارت پارٹنر اور بانی رکن ممالک کے طور پر شامل ہوں گے ۔ چین کے گرد امریکہ کی جارحانہ سفارتکاری کے سلسلے میں اکتوبر کے پہلے ہفتے میں  جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں “کواڈ” کےحوالے سے بھارت، امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس بھی ہوا جس میں خطے میں چین کی جارحانہ پیش قدمی کو “نکیل” ڈالنے کے حوالے سے”نیو نیٹو” کی تشکیل سمیت مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔
امریکہ اور بھارت کی اس جارحانہ سفارتکاری کا جواب دینے کیلئے اب چین کے وزیرخارجہ آسیان ممالک کے ساتھ روایتی تعلقات کو بچانے کی مہم پر نکل کھڑے ہوئے ہیں ۔ چین کیلئے سب سے زیادہ اہم ملک پاکستان ہے اس لیئے  سی آئی اے ، را اور این ڈی ایس کی مشترکہ ہائبرڈ وار کا سب سے مہلک حملہ بھی پاکستان پرہی  کیا گیا ہے، اس کثیرالجہتی حملے نے پاکستان کو سخت آزمائش سے دوچار کر رکھا ہے ، پچھلے ایک برس سے جاری  مصنوعی مہنگائی اور سیاسی افراتفری کچھ کم مصیبت نہ تھی کہ دہشت گردی کی نئی لہر اور عرب ممالک کی طرف سےانتہا درجے کی ” سرد مہری” نے صورتحال مزید سنگین بنا دی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ  چین کے ساتھ ساتھ  روس بھی اس تیزی کے ساتھ بدلتی صورتحال میں بہت محتاط رویہ اختیار کیئے ہوئے ہے ، بھارت اور افغان حکومت کے درمیان “نیو نیٹو” گریٹ گیم پر اتفاق رائے کے بعد دوحہ امن معاہدہ بھی کسی بدترین انجام کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے ، عبداللہ عبداللہ کے بھارت کے دورے اور وہاں بھارتی وزیراعظم ، وزیرخارجہ ، فوجی سربراہوں اور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر  کے ساتھ   ملاقاتوں میں کچھ ایسی کھچڑی پکی کہ اُن کی کابل واپسی کے تیسرے روز ہی  امریکی فضائیہ نے دوحہ امن معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے ہلمند میں طالبان جنگجوئوں پر اچانک وحشیانہ بمباری کردی ،  یہ  واقعہ ایک واضح پیغام ہے کہ  طالبان جنگجوئوں کو کابل حکومت کے زیر کنٹرول بڑے  شہروں میں داخل ہونے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی، اس پیغام نے دوحہ امن معاہدے کو افغان طالبان کی فتح قرار دینے کے دعووں کی بھی قلعی کھول دی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نومبر کے صدارتی انتخابات کے بعد  اپنی جارحانہ پالیسی کو مزید آگے بڑھائے گی ۔
یہ کہا جارہا ہے کہ  نومبر ، دسمبر اور جنوری میں  ہمالیہ اور قراقرم کے سلسلہ ہائے کوہ پر شدید برف باری کی وجہ سے وہاں تین چار ماہ تک بڑے پیمانے پر فوجی نقل وحرکت اور بڑی جنگ ممکن نہیں رہے گی ، امریکہ ، بھارت اور کابل حکومت نے اس دوران پاکستان اور افغان طالبان کیخلاف بڑی مہم جوئی کی  پلاننگ کر رکھی ہے اور اس دوران اچانک “حالت جنگ”  پیدا کرکے پاکستان اور افغان طالبان کو اپنی “چین دوست” پالیسی بدلنے پر مجبور کرنے کیلئے “آخری پیغام” دیا جاسکتا ہے۔
ایک اہم سوال یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ  کیا پاکستان ، چین ، روس ، ایران ، ترکی اور افغان طالبان اس ممکنہ نازک صورتحال  کیلئے “جوابی سٹریٹجک حکمت عملی” تیار کر چکے ہیں؟  یا ابھی تک اُسی گومگو کی صورتحال سے دوچار ہیں کہ جس کی وجہ سے پہلے بھی یہ ممالک میدان جنگ میں جیتے ہوئے معرکے مذاکرات کی میز پر ہار چکے ہیں ، کارگل اور لداخ کے معرکوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کی بجائے “گومگو” میں پڑے رہنے کا نتیجہ سب کے سامنے ہے اور ان تاریخی ناکامیوں کی وجہ ایک ہی ہے کہ چین ، روس اور ایران سمیت اس نئے  بلاک کے اہم ترین رکن ممالک  امریکہ اور بھارت کے حوالے سے ذہنی طور پر کلیئر اور یکسو نہیں ۔
اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی کہ چین کے ساتھ لداخ کے محاذ پر جنگی محاذ آرائی کے دوران انتہائی کمزور سٹریٹجک پوزیشن میں آ جانے کی وجہ سے بھارت بری طرح پھنس گیا تھا ، اس مشکل سے نکلنے کیلئے مودی سرکار نے چانکیہ سیاست کا  پرانا  دائو کھیلا اور روس کو “ماموں” بنا کر مستقبل میں امریکہ کے ہاتھوں میں نہ کھیلنے کے  جھوٹے وعدے کرکے اپنے آپ کو اس مشکل صورتحال سے نکال لیا  ، بالکل ایسا ہی شاطرانہ کھیل معرکہ کارگل کے دوران امریکہ کی ثالثی میں پاکستان کے ساتھ بھی کھیلا گیا تھا ،اس لیئے اگر یہ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کہ  کارگل ہو یا لداخ ، پاکستان اور چین دونوں محاذ جنگ پر جیتی ہوئی بازی مذاکرات کی میز پر ہار گئے ، پاکستان کو کشمیر کا مسئلہ حل کروانے کی یقین دہانی امریکہ کے ذریعے کروا کر “ماموں” بنایا گیا تو چین کو سی پیک ، لداخ  اور تبت کے ایشوز پر مخاصمت ختم کرنے کی یقین دہانی روس کے ذریعے کروا کر “ماموں” بنا دیا گیا ہے۔ 
اب یہ بات کوئی راز نہیں رہی کہ چین اور روس کو مستقبل میں بہتر تعلقات قائم کرنے کے مذاکرات میں اُلجھا کر بھارتی فوج نے  29 اور 30 اگست کی درمیانی رات چوشل سیکٹرمیں  اچانک پیش قدمی  کر کے پینگونگ سو جھیل کے جنوب میں عسکری اہمیت کی اہم چوٹیوں پر جو قبضہ کیا تھا اس میں کلیدی کردار  پینٹاگون کی “جیواسپیشل انٹیلی جنس” سپورٹ کا تھا ۔ محاذ جنگ کے چپے چپے کو ہتھیلی پر موجود سرسوں کی طرح دیکھ  لینے والی جدید ترین امریکی جغرافیائی ٹیکنالوجی نے بھارت کو ناقابل تصور فتح دلا دی یوں اس نے لداخ کے محاذ پر عسکری برتری حاصل کر کے مئی میں اپنی بدترین شکست  کا مداوا کر لیا ، اس  سرپرائز سرجیکل آپریشن میں بھارتی فوج نے 7 مقامات پر لائن آف ایکچوئل کنٹرول کو پار کر کے عسکری اہمیت کی چوٹیوں پر قبضہ کر لیا اورامریکی مصنوعی سیاروں اور فضائیہ کے مختلف شعبوں کی طرف سے فراہم کی گئی جیواسپیشل انٹیلی جنس کے ذریعے نہایت خاموشی کے ساتھ  لداخ کے محاذ پر اُن مقامات پر  تیزی کےساتھ  اپنی ٹینک رجمنٹیں اور توپخانہ بھی پہنچا دیا جہاں چین کی پوزیشن  کچھ  کمزور تھی۔
 امریکہ کی جدید ترین  جغرافیائی انٹیلی جنس ٹیکنالوجی کی مدد سے حاصل ہونے والی ان حیران کن کامیابیوں نے بھارتی فوج اور حکومت کا تباہ ہوجانے والا مورال ایک بار پھر بحال کر دیا ہے اور اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ لداخ میں فوجی حکام کے مذاکرات کے ہر نئے رائونڈ میں چین تو کشیدگی کم کرنے کیلئے دونوں ممالک کی ٹینک رجمنٹوں اور توپخانے کو اگلے مورچوں سے پیچھے ہٹانے کی تجویز پیش کر رہا ہے لیکن  بھارت کا رویہ انتہائی غیر لچکدار  ہوگیا ہے اور اُس کا کہنا ہے کہ پہلے دونوں ممالک اپنی مئی 2020 سے پہلے والی  پوزیشنوں پر واپس جانے کا معاہدہ کریں ، توپخانے اور ٹینک رجمنٹوں کی واپسی اس کے بعد  شروع ہو گی ۔
بھارتی فوج کو اپنی سُپر ٹیکنالوجی کا ایک “جام” پلا کر پینٹاگون نے مودی سرکار کوایک طرح سے  “مدہوش” کر دیا ہے اور اسی سرمستی کی کیفیت میں نئی دہلی نے خطے میں “نیونیٹو” کے قیام اور اس نئے عسکری اتحاد کی فرنٹ لائن اسٹیٹ بننے کی پیشکش قبول کر لی ہے ۔  امریکہ  اور بھارت کے درمیان ٹو پلس ٹو مذاکرات کا تیسرا رائونڈ 26 اور 27 اکتوبر کو نئی دہلی میں منعقد ہو گا جس میں  دونوں ممالک  اپنی مسلح افواج کے مابین جغرافیائی انٹیلی جنس کے اشتراک سے متعلق معاہدے پر دستخط کریں گے ،  اس معاہدے کے نتیجے میں  دونوں فریق جیو فزیکل ، جیو میگنیٹک اور کشش ثقل کے اعداد و شمار سمیت مختلف حساس عسکری و سائنسی معلومات کا تبادلہ کیا کریں گے ، اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی ائیرفورس ، میزائل سسٹمز اور دیگر حساس عسکری شعبوں  کے ڈیٹا تک رسائی  بھی حاصل ہوجائے گی ۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ  ایسے کسی بھی معاہدے کے تحت کمتر ٹیکنالوجی والا ملک برتر ٹیکنالوجی والے ملک کے سامنے “ننگا” ہو جاتا ہے اس لیئے بھارتی حکومت طویل عرصے سے ان مذاکرات کو لٹکائے رکھنے کے فارمولے پر عمل پیرا تھی لیکن اب اچانک مودی سرکار کا اس پر دستخط کرنے پر تیار ہو جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت نے روس اور امریکہ کے ساتھ اپنے فوجی تعلقات میں توازن قائم رکھنے کی پالیسی ترک کر دی ہے اور مکمل طور پر امریکی کیمپ میں جانے کا فیصلہ کر لیا ہے ، بھارتی میڈیا کے مطابق طویل عرصہ سے التوا میں پڑے ہوئے  بیسک ایکسچینج اینڈ کوآپریشن معاہدہ (بی ای سی اے) کو آخر کار حتمی شکل دیدی گئی ہے اور بھارتی وزیر خارجہ ایس جے  شنکر  اور  وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ ،  امریکی ہم منصب مائیک پومپیو اور مارک ٹی کے مابین ٹو پلس ٹو مذاکرات کے دوران اس تاریخی دستاویز پر دستخط کر دیئے جائیں گے ۔  یہ معاہدہ دونوں فریقوں کو جغرافیائی ڈیٹا سے متعلق معلومات کا تبادلہ کرنے کے قابل بنائے گا اور دونوں ممالک مصنوعی انٹیلی جنس کی مدد سے تیار کیئے جانے والے  نقشہ جات ، چارٹس ، منظر کشی ، جیوڈیٹک ، جیو فزیکل ، جیو میگنیٹک اور کشش ثقل کے اعداد و شمار کا تبادلہ کریں گے۔  یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ   اس معاہدے پر دستخط کرنے کیلئے  امریکی محکمہ خارجہ کی نیشنل جیواسپیشل انٹیلی جنس ایجنسی اور  پینٹاگون   کے اعلیٰ حکام بھی 26 اور 27 اکتوبر کو نئی دہلی میں موجود ہوں گے ۔ اس سلسلے میں  بھارت پہلے ہی امریکہ کے ساتھ تین “بنیادی معاہدوں” پر دستخط کر چکا ہے اور 26 اور 27 اکتوبر کو  بی ای سی اے معاہدوں میں سے آخری معاہدہ ہونے جا رہا ہے،  اس آخری معاہدے پر دستخط ہو جانے کے بعد  ہندوستان اور امریکہ ایک دوسرے کی جدید فوجی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے لگیں گے تو پاکستان ، چین اور روس کیلئے خطرات کئی گنا بڑھ جائیں گے ۔
بھارتی میڈیا کے مطابق  امریکہ نے ہندوستان سے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے مابین دفاعی شراکت داری کو مستحکم کرے گا۔ پہلے تین  معاہدے  لاجسٹک ایکسچینج میمورنڈم آف ایگریمنٹ (LEMOA) ، مواصلات مطابقت اور سیکیورٹی معاہدہ (COMCASA)  اور صنعتی تحفظ انیکس (ISA)  تھے۔ ان معاہدوں کے تحت 2016 میں دونوں ممالک کے درمیان ایک دوسرے کے ہوائی جہازوں ، بحری جہازوں اور عملے کی رسد ، ایندھن اور اسپیئرز کی مدد کے لئے دستخط کیے گئے تھے ،
 دونوں ممالک کے درمیان ٹوپلس ٹو ( 2 + 2)  بات چیت کے پہلے رائونڈ کے موقع پر ستمبر 2018 میں “کومکاسا” پر دستخط ہوئے تھے ۔ ٹوپلس ٹو ( 2 + 2)  بات چیت کے دوسرے رائونڈ کے موقع پر  دسمبر 2019 میں آئی ایس اے پر دستخط کیے گئے تھے جو دونوں  ممالک کو فوجی معلومات کے دوطرفہ تبادلے کا اہل بناتا ہے۔
 بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ 26 اور 27 اکتوبر کو  ٹو پلس ٹو مذاکرات کے  تیسرے رائونڈ کے دوران امریکہ اور بھارت کے درمیان جن دیگر اہم عسکری ایشوز پر بات چیت کی جائے گی اُن میں  جنوبی بحیرہ چین ، مشرقی بحیرہ چین ، آبنائے تائیوان، آبنائے ملاکا ، ہمالیہ میں چین بھارت لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) ، انڈو پیسیفک  خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور افغانستان میں امریکہ طالبان دوحہ امن معاہدہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔