لیڈر کی ذاتی زندگی پرائیویٹ نہیں، پبلک پراپرٹی ہے:سراج الحق

امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا ایک تفصیلی انٹرویو قارئین کی نذر۔۔

عدنان کاکڑ : معاشرے عدم برداشت اور عدم رواداری کی کیا وجوہات ہیں اور اس کے سدباب کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔

سراج الحق صاحب : پہلے معاشرے میں موجود لیڈر شپ یا قیادت ایسی ہوتی تھی جو معاشرے کو اخلاق بھی دیتے تھے اور برداشت بھی سکھاتے تھے۔ وہ دیانت داری، امانت داری، رواداری اور انسانی اخلاق کے مجسمے تھے۔ موجودہ لیڈر شپ ان صفات سے محروم ہے اور اسی وجہ سے عوام میں بھی یہ چیز نہیں ہے۔ کبھی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ لیڈر ایک دوسرے کو ماں باپ کی گالیاں دیں مگر اب یہ روٹین کا مسئلہ ہو گیا ہے۔ معاشرہ لیڈر شپ کی وجہ سے بنتا یا بگڑتا ہے۔

عدنان کاکڑ : اس رویے کو بہتر کرنے کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں کیونکہ لیڈرشپ تو یہی ہے اور اسی سے کام چلانا پڑے گا۔ کیا اقدامات ہیں جو حالات کو بہتر کر سکتے ہیں۔

سراج الحق صاحب: ذرائع ابلاغ ہے وہ بھی اس عدم برداشت اور جذباتیت پھیلانے کے ذمہ دار ہیں۔ گزشتہ دنوں میں نے سینٹ میں کہا کہ معاشرے میں جو برائیاں یا خوبیاں پھیلتی ہیں وہ قیادت کی وجہ سے۔ مثال میں نے دی کہ چین میں ایک بادشاہ تھا، لوگوں کا خیال تھا کہ وہ اپنی بیوی سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے کیونکہ اس کی بیوی کے پاؤں چھوٹے ہیں۔ تو پھر معاشرے میں لوگوں نے اپنی بیٹیوں کے پاؤں کو پتلا رکھنے کی کوششیں شروع کر دیں، تنگ جوتے پہناتے تھے، بوٹ پہناتے تھے اور پھر تسموں سے باندھتے تھے۔ بادشاہ کو پتا چلا کہ میری وجہ سے بیٹیوں پر بہت زیادتی ہو رہی ہے تو اس نے تقریر کی کہ بڑے پاؤں والی خاتون بہت اچھی ہوتی ہے، وہ کام زیادہ کرتی ہے۔ لیکن آج تک وہاں رشتے کے وقت چہرے کے ساتھ پاؤں کو بھی دیکھا جاتا ہے۔ حکمران کو جو چیز پسند ہو رعایا میں وہی عام ہو جاتی ہے۔

عدنان کاکڑ : جیسی قوم ہوتی ہے ان پر ویسے ہی حکمران مسلط کیے جاتے ہیں یا آ پ کہہ لیں کہ جیسے حکمران ہوں گے ویسی ہی قوم ہو گی۔ ان دونوں میں سے کون سا کلیہ ٹھیک ہے۔

سراج الحق صاحب: لیڈرشپ کی مثال بالکل معاشرے کے ساتھ مچھلی کی طرح ہیں۔ مچھلی کا سر اگر خراب ہو تو باقی گوشت کھانے کے قابل نہیں ہوتا۔ اس لیے مچھلی کا سر جو لیڈرشپ ہے اس کا چہرہ ہوتا ہے، اس کا فیض ہوتا ہے۔ قومیں ترقی یا تنزلی اپنے لیڈر کی وجہ سے کرتی ہیں۔ جو بڑے دعوے کرتے ہیں ان کو اپنا کردار بھی نمونے کے طور پر پیش کرنا چاہیے۔ ایک لیڈر کا وہ فیس ہے جو چینل پر ہے اور ایک کہتے ہیں کہ میری پرسنل لائف ہے تو ایک شہری کی پرسنل لائف تو ہو سکتی ہے، لیڈر ٹوٹل ایک پبلک پراپرٹی ہے، اس کی رات کے اندھیروں میں زندگی ہو یا دن کی روشنی میں، وہ ایک آئیڈیل اور نمونہ ہو تبھی قوم ترقی کر سکتی ہے۔ سب سے بہتر یہ ہے کہ ہمارے قرآن میں ا اللہ نے فرمایا ہے کہ ہمارے لیے پیغمبر کی زندگی ایک شوہر، پڑوسی، قاضی، اور حکمران سمیت ہر شعبے میں ایک نمونہ ہے۔ یہ تو ہے ہی اس لیے کہ ہر وہ آدمی جو قیادت کے منصب پر ہے وہ معاشرے کے لیے نمونہ بنے۔

وصی بابا: حالیہ تاریخ میں ہم لوگوں نے جماعت کے تین امیروں کا دور دیکھا۔ قاضی صاحب کا، منور حسن صاحب کا اور اب آ پ کو دیکھ رہے ہیں۔ آپ جماعت کے ان سابق امیروں کے ساتھ اپنے دور کا کیسے موازنہ کریں گے۔ وہ دور کیسا تھا، ان کے بارے میں کچھ بتائیں اور جو آپ تبدیلیاں لانا چاہ رہے ہیں اس کے حوالے سے کچھ بتائیں۔

سراج الحق صاحب: جماعت اسلامی اپنی انٹرنل تنظیم میں سو فیصد جمہوری جماعت ہے اور واحد جماعت ہے جس کی ملکی اور بین الاقوامی اداروں نے گواہی دی ہے۔ مولانا مودودی سے لے کر آج تک جتنے بھی امیر بنے ہیں، وہ وراثت کی بنیاد پر نہیں، سازش کی بنیاد پر نہیں، پیسے کی بنیاد پر نہیں، خالصتاً جمہوری بیس پر بنے ہیں۔ قاضی صاحب کا تعلق پشاور سے تھا تو ان کے ساتھ زندگی گزارنے کا یا سفر میں ساتھ رہنے کا زیادہ موقع ملا تھا۔ ان کا عرصہ چونکہ کچھ زیادہ ہے، بیس بائیس سال وہ امیر رہے۔ تو بہت سارے گرم اور نرم، ہر طرح کے حالات میں ان کو ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ہم نے دیکھا ہے۔ منور صاحب بھی اپنی ذات میں تقوے کا، اخلاص کا، ایک بہت اچھے انسان ہیں۔ دونوں سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک ہی ماں کے چار بچے ہوں تو چاروں ایک طرح کے نہیں ہوتے۔ اس طرح ہر انسان کے مزاج میں ضرور کوئی نہ کوئی فرق ہوتا ہے۔

عدنان کاکڑ : تینوں امیروں کی ترجیحات میں کیا فرق ہے۔ آپ کی قیادت میں جماعت کیا کوئی نئی سمت اختیار کر رہی ہے۔

سراج الحق صاحب: ہر امیر کو مختلف چیلنجز کا سامنا تھا۔ قاضی صاحب جب امیر بنے تو ہمارے پڑوس پر روس نے قبضہ کیا تھا۔ جب منور حسن صاحب امیر بنے تو اڑوس پڑوس پر نیٹو افواج نے قبضہ کیا تھا۔ اب میری ذمہ داریاں ہیں تو چاروں طرف روس یا نیٹو کی بجائے میں سمجھتا ہوں کہ ان سے زیادہ جو ان کے یار اور وفادار ہیں اور نمک خوار ہیں وہ مسلط ہیں۔ جماعت اسلامی کے کچھ مستقل بنیادی اصول ہیں اور کچھ تدابیر ہیں جو وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ لیکن پرنسپل جس کی بنیاد پر ہماری جماعت بنی ہے وہ تو یہی ہے کہ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ملک ہے اور یہاں وہ نظام ہو جس کے لیے لوگوں نے پاکستان بنایا ہے۔

عدنان کاکڑ : خاص طور پر وہ طبقہ جو جماعت اسلامی کا ووٹر نہیں ہے اس کو متوجہ کرنے کے لیے آپ کیا کر رہے ہیں۔

سراج الحق صاحب: پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے قریب سے دیکھا کہ جو ہماری سیاست ہے اور جمہوریت ہے یہ سو فیصد یرغمال ہے۔ یہ تو بورژوا کہیں، فیوڈل کہیں، ان کے کھیل کود کا سامان ہے یہاں۔ کبھی گھوڑے دوڑاتے تھے، کبھی کتے لڑاتے تھے، اب وہی طبقہ ہے جو کہ سیاست کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر سرمائے کا عمل دخل اسی طرح ہے تو یہاں غریب آدمی کو یا عام پاکستانی کو ان ایوانوں میں اندر داخل ہونے کے لیے دروازہ تو کیا کوئی روشن دان بھی نہیں ملتا ہے۔

وصی بابا : میرا ایک اعتراض ہے کہ ہم کسی اور کی نہیں آپ ہی کی مثال دیتے ہیں کہ 2002 ء میں آپ لوگوں نے جن افراد کو اسمبلی میں پہنچا دیا ایم این اے بنا کر تو کیا وہ سرمایہ دار تھے؟ کیا وہ عام لوگ نہیں تھے؟ آپ ہی کی پارٹی کے لوگ تھے جو علمائے دین تھے یا عام سیاسی کارکن تھے۔ وہ سارے آپ نے پارلیمنٹ میں پہنچا دیے۔ ہم نے آپ کو دیکھا۔ آج بھی ہم آپ کا شمار عام لوگوں میں ہی کرتے ہیں۔

عدنان کاکڑ : جو کہ وزیر ہو کر بھی سائیکل پر اسمبلی میں آتے تھے۔

سراج الحق صاحب: کوئی اکا دکا مثالیں ہیں۔ ہم حکومت میں رہ کر بھی ویسے ہی رہے۔ میں آپ کو بتا دوں کہ اب بھی آپ دیکھیں تو تیرہ بلین ان لوگوں نے صرف اشتہارات اور پراپیگنڈہ کے لیے رکھے ہیں۔ تیرہ بلین اگر اشتہارات اور پراپیگنڈہ پر خرچ ہو جائیں تو اس میں عام آدمی کی آواز کہاں آپ کو سنائی دے گی۔ سوال یہ ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ ہماری کوشش یہ ہے کہ اپنی جماعت کے دروازے عام آدمی کے لیے کھولیں اور خاص کر یوتھ کے لیے۔ ابھی ہم نے خیبرپختونخوا میں جے یو آئی یوتھ کی تنظیم بنائی ہے۔ چھ لاکھ سے زیادہ اس وقت ممبر بنے ہیں۔ اب ہم پنجاب میں یوتھ کو منظم کر رہے ہیں۔ میں ابھی آپ کو بتاتا ہوں کہ رات کو میں ایک کبڈی میچ پر مدعو تھا، وہاں سارے ہمارے نوجوان تھے۔ ہم خواتین کے معاش، تعلیم اور علاج کے انتظام پر توجہ دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی میری یہ کوشش ہے کہ جماعت اسلامی کے اپنے ارکان کے علاوہ باہر بھی جو اچھے لوگ ہیں جن کے دامن پر کرپشن کے داغ نہیں ہیں، ان کو ہم جماعت اسلامی کا ٹکٹ دیں۔ میری کوشش یہی ہے کہ الیکشن ریفارمڈ ہوں اس لیے کہ موجودہ الیکشن میں جو اخراجات ہیں وہ عام آدمی کے بس کے نہیں ہیں۔

عدنان کاکڑ : آپ نے بتایا کہ جماعت واحد جمہوری جماعت ہے اور اس میں ایک کوالٹی ہے کہ مڈل کلاس یا غریب شخص بھی اوپر آسکتا ہے امارت کے لیول پر جبکہ آپ کی ایک بڑی مثال ہے۔ جمہوری نظام میں انٹرنل الیکشن کا جماعت کے علاوہ کسی سیاسی پارٹی میں نہیں ہے۔ اس کے باوجود لوگ اس کو ووٹ دینا کیوں پسند نہیں کرتے۔ ستر سال سے یہی روایت چلی آرہی ہے۔

سراج الحق صاحب: میں آپ کو یقین سے کہتا ہوں کہ اگر وسائل کو ایک طرف رکھا جائے اور لوگوں کو ہمارا پیغام پہنچے تو لوگ ووٹ دیتے ہیں۔ ہیلی کاپٹر اور سائیکل کا مقابلہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اب تو حلقے خریدے جاتے ہیں ظاہر ہے کہ وہ مفت تو نہیں ہوتے۔ آپ کے اخبارات کے بڑے بڑے صفحات خریدے جاتے ہیں۔ پیسے کی اس فیوڈل سیاست میں عام لوگوں کا آنا ناممکن ہے۔

عدنان کاکڑ : پچھلے الیکشن میں ہم نے دیکھا تھا کہ لوگوں نے عمران خان کو یہ کہتے ہوئے ووٹ دیا تھا کہ ہم نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کو آزما کے دیکھ لیا ہے، باقی ساری لیڈر شپ بے کار ہے۔ عمران خان سیاست دان نہیں ہے لیکن پھر بھی اس کو آزما کر دیکھ لیتے ہیں۔ اس وقت جبکہ پیسے کا اتنا مسئلہ نہیں تھا تو پھر کیا وجہ تھی کہ لوگوں نے عمران کو منتخب کیا، کرپشن فری جماعت کو کیوں منتخب نہیں کیا؟ جماعت کے اراکین اور پارٹی سے زیادہ کرپشن فری کوئی دوسرا دکھائی نہیں دیتا۔ پھر کیا وجہ تھی کہ عمران کو منتخب کیا گیا؟

سراج الحق صاحب:میڈیا۔ میڈیا کو آپ ایک طرف رکھ لیں تو باقی کوئی ٹیم کسی کے ساتھ نہیں ہے۔ جماعت اسلامی تو ایک تجربہ کار جماعت ہے اس نے جس طرح کراچی میں ڈلیور کیا، یعنی کراچی میں وہی زمانہ ترقی کا، خوش حالی کا اور امن کا ہے جس میں جماعت اسلامی کے میئر رہے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے ملکی اور بین الاقوامی اداروں نے مل کر جماعت اسلامی کو دیوار سے لگایا اور آج بھی میں آسان الفاظ میں کہوں جو کچھ سیاست ہے یہ میڈیا کی پیداوار ہے۔ مجھے توقع ہوتی ہے کہ ہمارے بیس ہزار افراد کے جلسے کو ٹی وی پر کوریج ملے گی مگر کوریج ملتی ہے تو ایک لیڈر کو جس کے جوتے غائب ہو جاتے ہیں۔

عدنان کاکڑ : جماعت کی ناکامیوں کا یہ آپ کا اندرونی تجزیہ ہے۔ باہر کی بڑی بڑی کمپنیاں خود کو مشکل میں دیکھ کر بیرونی ماہرین کو بلوا کر اپنی ناکامی کا تجزیہ کرواتی ہیں۔ کیا جماعت نے کبھی اس طرح سوچا ہے کہ وہ لوگ جو جماعت کے حامی نہیں ہیں ان سے یہ پوچھا جائے کہ آپ ہمیں ووٹ کیوں نہیں دیتے ہیں یا ہماری ناکامی کے اسباب کیا ہیں۔

سراج الحق صاحب:آپ کی بات سے میں متفق ہوں۔ میں اسے ان الفاظ میں کہوں گا کہ ہم اپنی سچائی کی مارکیٹنگ شاید نہ کر سکیں۔ جماعت اسلامی ایک اسلامی جماعت ہونے کے علاوہ ایک جمہوری جماعت ہے۔ ایک دیانت دار، پروگریسو، تعلیم یافتہ لوگوں کی، مڈل مین اور عام لوگوں کی کرپشن فری جماعت ہے لیکن ہم اس کی مارکیٹنگ نہیں کر سکتے۔ میں اس کا اعتراف کرتا ہوں کہ لوگ جھوٹ کو بیچتے ہیں ہم سچ کو نہیں بیچ سکتے اور ہم اس پر مسلسل کام کر رہے ہیں۔

عدنان کاکڑ :جماعت کے اوپر جمعیت کا سایہ بہت گہرا ہے۔ آپ خود بھی جمعیت کے پاکستان کے ناظم اعلیٰ رہے ہیں، تو کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ جمعیت لوگوں کو، نوجوان نسل کو جماعت میں لانے کا سبب بن رہی ہے یا دور دھکیلنے کا۔

سراج الحق صاحب:جب مودودی صاحب نے اسلامی جمعیت طلبا قائم کی تو انہوں نے مزدوروں میں بھی تنظیم قائم کی، کسانوں میں بھی تنظیم قائم کی اور طلبا میں بھی، لیکن سب سے جو کامیاب مولانا مودودی کا تجربہ تھا وہ تعلیمی اداروں میں اس تنظیم کا تھا۔ مولانا مودودی کا پیغام انقلابی تھا اور اس میں اسلام اور پاکستانیت دونوں شامل تھے اس لیے انہوں نے نئی نسل کو بہت اٹریکٹ کیا۔ شہری جمعیت کے علاوہ کوئی اور نظریاتی تنظیم نہیں جو نئی نسل کے اخلاق اور ان کے کردار کی کوئی فکر کرتی۔ اس لیے اسلامی جمعیت طلبا نے اس کو ڈیلیور کیا ہے۔ میں ساتویں کلاس میں تھا کہ میرے والد نے لوگوں کو اکٹھا کیا کہ سراج الحق کے ساتھ اب کیا کیا جائے کہ یہ ساتویں کلاس میں پہنچ گیا ہے۔ گاؤں کے ایک بزرگ نے یہ مشورہ دیا کہ اس کو سعودی عرب بھیجیں۔ ایک دوسرے بزرگ نے کہا کہ نہیں اس کو کسی مستری خانے میں بٹھائیں، اس لیے کہ مستری بہت کماتے ہیں۔ ایسے میں ایک آدمی نے کہا کہ اسے آپ ہمارے حوالے کر دیں اسے ہم ایک ٹیوشن سنٹر میں داخل کر دیتے ہیں تو مجھے دیر سے اٹھا کر سوات میں لے آئے اوردو ماہ کے لیے ایک ٹیوشن سنٹر میں داخل کروا دیا گیا۔ اس کے بعد اسلامی جمعیت طلبا کا کارکن بنا پھر رکن بنا۔ پھر کالج میں آیا، یونیورسٹی میں آیا۔ اگر یہ سایہ مجھے میسر نہ ہوتا تو آج میں کسی مستری خانے میں سینئر مستری ہوتا۔ یہ ہماری اس جمعیت کا کمال ہے اور آج بھی بڑے پیمانے پر ٹیوشن سنٹر چلاتے ہیں تاکہ غریب طلبا کو پڑھنے کا موقع ملے۔

عدنان کاکڑ :لاہور میں کچھ عرصہ پہلے پنجاب یونیورسٹی میں ایک واقعہ پیش آیا کہ پختونوں کے ساتھ جمعیت کا مسئلہ ہوا تھا۔ اس کے بعد میڈیا پر جمعیت پر سارا الزام آیا تھا۔ اس وقت جماعت اور سوشل میڈیا کے کارکنوں نے یہ بتایا تھا کہ میڈیا ٹوٹل ہمارے خلاف ہے۔ میڈیا کے خلاف ہونے کی کیا وجہ ہے؟ کیا اس کی وجہ پنجاب یونیورسٹی کا ماحول تو نہیں ہے؟

سراج الحق صاحب:یہاں میں پہلے جمعیت کی قیادت کی بات کروں گا۔ 1990۔ 91 ء میں، میں اسلامی جمعیت طلبا کا ناظم اعلیٰ بنا تھا۔ ان دنوں طلبا کے درمیان بہت زیادہ لڑائیاں ہوتی تھیں لیکن ہماری شوریٰ بیٹھ گئی اور ہم نے طے کیا کہ ہم تعلیمی اداروں میں لڑائیوں کا رواج ختم کریں گے۔ میں نے خود طلبا تنظیموں سے بات کی، طلبا تنظیموں کو پنجاب یونیورسٹی میں بلایا۔ مخالفین کے خلاف ایف آئی آرز درج کرائی کو واپس لیا، جہاں کہیں ہمارے کسی کارکن نے زیادتی کی تھی وہاں جا کر ہم نے اعتراف کیا ظاہر ہے کہ اس سے ایک پرامن ماحول میسر آیا۔ آج بھی بحیثیت مجموعی تعلیمی اداروں میں بہتری ہے۔ آج بھی جمعیت کی قیادت کو یہ احساس ہے کہ ہمارے کام کے لیے، ہمارے نظریات اور لٹریچر کے لیے پرامن ماحول سوٹ کرتا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی میں جو ابھی ناخوشگوار واقعہ ہوا ہے اس میں جمعیت کے کارکن بھی ہسپتال میں تھے اور دوسرے بھی۔ تو جب میں نے پوچھا کہ میں جمعیت کے کارکنوں کی عیادت کے لیے ہسپتال جانا چاہتا ہوں تو جمعیت کے ناظم اعلیٰ نے مجھے منع کیا کہ اس وقت چونکہ دوسرے لوگ ہسپتالوں سے فارغ ہو کے گھروں کو جا چکے ہیں، یا تو آپ ان لوگوں کے گھروں میں جا کر بھی بیمارپرسی کریں یا ہمارے لیے بھی نہ آئیں تاکہ یہ تاثر نہ پڑے کہ آپ کسی ایک تنظیم سے وابستہ ہیں۔ پھر میں نہیں گیا۔ مجھے خوشی ہوئی کہ ہمارے جمعیت کے ناظم اعلیٰ کو یہ احساس ہے کہ جماعت اسلامی کے امیر کسی ایک تنظیم کے سرپرست نہیں ہیں، وہ سب کے لیے ہیں۔ لیکن خود جمعیت نے اس بات کو محسوس کیا اور ایکشن بھی لیا، کمیٹی بنائی۔ جمعیت کے اندر بھی یہ طاقت موجود ہے کہ اگر کوئی کارکن غلط کام کرتا ہے تو اس کا محاسبہ بھی کیا جاتا ہے، خراج بھی کرتا ہے اور اعتراف بھی کرتا ہے۔ یہی بہترین چیزیں ہیں۔

عدنان کاکڑ :دیر اور سوات میں آپ نے ذکر کیا کہ جمعیت بہت زیادہ کام کر رہی ہے، پازیٹو امیج ہے۔ کیا وجہ ہے کہ پنجاب یونیورسٹی میں پچھلی تین چار دہائیوں سے پازٹیو امیج نہیں آرہا ہے بلکہ بہت زیادہ منفی امیج ہے۔

سراج الحق صاحب:اب اگر یہاں طلبا اور طالبات ساتھ دیتے ہیں تو کسی ڈنڈے کے زور پر تو نہیں ہے۔ جمعیت کی خدمت کی وجہ سے، کردار کی وجہ سے، اور خاص کر جب الیکشن ہوتا تھا تو جمعیت کو طلبا سے زیادہ ووٹ طالبات دیتی تھیں۔ کراچی یونیورسٹی میں بھی، پنجاب یونیورسٹی میں بھی، طالبات جمعیت کو اپنی حفاظت کے لیے ایک سائبان سمجھتی تھیں۔ میں نے خود ایک مضمون پڑھا، ایک صحافی کا تھا کہ اس کی بیٹی ابھی داخل ہے پنجاب یونیورسٹی میں، اس نے لکھا کہ میں اپنے زمانے میں جمعیت کا بہت مخالف تھا لیکن میری بیٹی نے اب مجھے قائل کر لیا ہے اس لیے کہ جب وہ داخلے کے لئے آئی تو بہت زیادہ خوفزدہ تھی لیکن دو مہینے بعد جب وہ گھر آئی تو اس نے کہا کہ جمعیت کے ہوتے ہوئے میری چادر، میرا ڈوپٹہ، میری عزت، میرا وقار محفوظ ہے۔

عدنان کاکڑ :لیکن اسی صحافی نے گزشتہ دنوں پشتون طلبا والے واقعے کے بعد کہا ہے کہ جمعیت سمیت تمام طلبا تنظیموں کو بین کر دینا چاہیے۔

سراج الحق صاحب:طلبا یونین تو پہلے ہی بین ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ طلبا کی اصلاح کے لیے اور مثبت سرگرمیوں کے لیے جہاں کھیل کود ضروری ہے وہاں یونین بھی ضروری ہے اور یونین نہ ہونے کی وجہ سے بھی طلبا کی سوچ محدود ہوتی جا رہی ہے۔

عدنان کاکڑ :میڈیا کا آپ نے ذکر کیا۔ میرے خیال میں جماعت کی سوشل میڈیا کی ٹیم سب سے زیادہ مؤثر ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ جماعت کا پازٹیو امیج نہیں بن رہا۔ سوشل میڈیا پر آپ پیسوں کے ذریعے تو وہ چیز نہیں خرید سکتے جو کہ آپ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پہ خرید سکتے ہیں۔

سراج الحق صاحب:دیکھیں اگر نئی نسل ہمارے ساتھ ہے اور اس کا ایک رجوع ہے تو وہ ہماری دولت کی وجہ سے تو نہیں ہے۔ وہ ہمارے ہیلی کاپٹروں یا لینڈ کروزروں سے نہیں بلکہ ہمارے امیج سے متاثر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام آدمی ہیلی کاپٹروں، لینڈ کروزروں اور ان چیزوں سے متاثر ہو جاتے ہیں یا عام آدمی کو آپ پٹواری یا ایس ایچ او کے ذریعے دباتے ہیں لیکن یوتھ چونکہ ان سے متاثر نہیں اس لیے یوتھ جماعت اسلامی کی طرف متوجہ ہے