یونان واپس جانے کے منتظراوور سیز پاکستانیوں کی وزیراعظم سے مدد کی اپیل

کورونا کی وبا کی وجہ سے یونان سے پاکستان گئے ہوئے یونانی اوورسیز کی واپسی کا کوئی حل نہ نکل سکا ۔یونانی اوورسیز گزشتہ10 ماہ سے پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں اور باقاعدہ قانونی حیثیت کے حامل ہیں ۔پاکستان میں ہر جگہ دستک دینے کے باوجود ان لوگوں کی مدد کے لئے کوئی بھی ادارہ کام نہیں آیا ۔ متاثرین نے میڈیا سے گفتگو میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور اوورسیز کے مشیر زلفی بخاری سے اپیل کی ہے کہ اس معاملے پر یونان کی حکومت سے بات چیت کی جائے،بار بار دفاتر کے چکر لگا کر بھی کسی نے بھی داد رسی نہیں کی ہے اور نہ ہی اس معاملے پر کوئی بھی حکومتی ادارہ کام کرتا نظر آتا ہے۔ اس وقت یونان سے تقریباً چار ہزار کے قریب اوورسیز پاکستانی یونان سے پاکستان گئے ہوئے ہیں اور 10 ماہ سے پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں ،کوئی کام نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں فاقوں کی نوبت آگئی ہے ۔

یونان میں اس وقت 50ہزار کے قریب پاکستانی بسلسلہ روزگار رہائش پزیر ہیں جنہیں سال میں تین بار چھٹیوں میں پاکستان جانے کا موقع ملتا ہے ۔یہ لوگ دسمبر کی چھٹیوں میں پاکستان جانے کے بعد وہاں پر پھنس گئے ہیں۔ متاثرین نے جنگ کی وساطت سے حکومتی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں ان کی مدد کریں اور یونان کی حکومت یا پھر اسلام آباد میںیونان کے سفارت خانے سے رابطہ کرکے ان اوورسیز کا مستقبل تاریک ہونے سے بچائیں تاکہ یہ لوگ واپس جاکر دوبارہ اپنے مستقبل کو محفوظ کر اور اپنے خاندان کی کفالت اور پاکستانی معیشت میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ متاثرین نے کہا کہ وہ اس قدر مجبور ہو چکے ہیں کہ اگر ان کے مطالبات نہ مانے گئے اور ان کو باعزت طریقے سے واپس نہ جانے دیا گیا تو ہم اپنے مطالبات منوانے کیلئےیونانی سفارت خانے کے سامنے دھرنا دیں گے تاکہ یونان کے اعلیٰ حکام تک اپنا مسئلہ پہنچا سکیں ۔