موبائل فلٹرز کی مصنوعی خوبصورتی نفسیاتی مسائل کا باعث،گوگل نے خبردار کر دیا

گوگل نے انسانوں کو بتادیا ہے کہ قدرت کی جانب سے دی گئی خوبصورتی ہی سب سے بہترین ہے اور اپنی طرف سے مصنوعی خوبصورتی آپ کو پریشان کر سکتی ہے۔، یہاں دنیا کے سب بڑے سرچ انجن کا ہدف موبائل فون ٹیکنالوجی ہے، تاہم اگر خواتین کی بات کی جائے تو مختلف تقریبات میں ان کا سجنا سنوارنا بھی فطری ہے۔، گھر بیٹھے بغیر میک اپ کے آپ حسین و جمیل دکھائی دے رہے ہیں تو ضرور یہ اسمارٹ موبائل فونز میں استعمال ہونے والے فلٹرز کا کمال ہے،نیوز ویب سائٹ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق موبائل فلٹرز کی مدد سے تصاویر لے کر انھیں اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی ڈسپلے پکچر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے یا پھر اپنے عزیزوں کے ساتھ بطور یادگار شیئر کیا جاتا ہے۔، موجودہ دور میں اسمارٹ فونز نے فوٹوگرافی کے تجربات کو بہتر بنانے کے لیے فلٹرز متعارف کروادیے ہیں، جن میں سے کچھ تو تصاویر پر اسطرح اثر انداز ہوتے ہیں کہ وہ چہرے پر موجود داغ دھبوں کو ایسے ختم کر دیتے ہیں جیسا اس کا کبھی کوئی وجود تھا ہی نہیں۔، موبائل فونز میں ان فلٹرز کی موجودگی کافی عرصے سے زیر بحث تو ہے ہی، تاہم اب اس پر نئی تحقیق بھی سامنے آئی ہے کہ ان کے استعمال سے انسانوں پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔،

گوگل نے بھی ایسی رپورٹس پر نظر رکھی ہوئی ہے اور اعلان کیا ہے کہ اب یہ اپنے فونز کو ایسے فلٹرز سے دور رکھے گا۔، ٹیک جائنٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اپنی ڈیوائسز میں اس فیچر کو پہلے ہی بند رکھے گا اور دیگر مینوفیکچرر سے بھی کہے گا کہ وہ بھی اسی طرح کریں۔، اپنے ایک بلاگ پوسٹ میں گوگل کا کہنا ہے کہ اس نے فلٹر کے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کی کہ فلٹر سیلفیز کے اثرات لوگوں کی بہبود پر پڑ سکتے ہیں، بالخصوص تب جب یہ فلٹر پہلے سے موجود ہوں۔، اس کا کہنا تھا کہ ہم نے کئی ماہر نفسیات کے ساتھ ساتھ بچوں سے بھی بات چیت کی، جس کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ جب ایک صارف کیمرہ اور فوٹو ایپ سے آشنا نہیں ہوتا اور پھر فلٹر لگتا ہے تو اسی انسان پر اس کے منفی اثرات پڑتے ہیں۔، اس نے یہ بھی کہا کہ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ یہ فلٹر تصویر میں آپ کو خوبصورت ترین کر دیتے ہیں اور آپ آئینے میں دیکھ کر خود کا ان سے موازنہ کرنے لگتے ہیں۔