پاکستان کی نوجوان خواتین سنگرز مقبولیت کے ریکارڈ توڑنے لگیں

نور جہاں کی آئیکونک میلوڈیز سے لے کر قرۃ العین بلوچ کے انٹرنیشنل آرٹسٹ’ جیسن ڈیرولو‘کے ساتھ گائے گانوں تک کامیاب خواتین سنگرز کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ آج ذکر کریں گے ان کم عمر پاکستانی خواتین سنگرز کا جو موجودہ دور میں اپنی مسحور کن آواز اور متاثر کن شخصیت کے سبب پاکستانی موسیقی کی صنعت کو مزید کامیابی کی جانب گامزن کیے ہوئےہیں۔, زیب بنگش کی آواز کو جب جب سُنا جائے، ایسامحسوس ہوتا ہے کہ یہ خوبصورت اور دھیمی آواز بنی ہی رومانوی گانوں کے لیے ہے۔زیب بنگش کا شمار پاکستان کی ان گلوکاراؤں میں کیا جاتا ہے جو نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی طور پر بھی اپنی آواز کا جادو جگانے میں کامیاب رہی ہیں ۔زیب بنگش بالی ووڈ فلم ’’مدراس کیفے‘‘کےگانے ‘’’جیسے ملے اجنبی‘‘ کے لیے بھی پلے بیک سنگنگ کرچکی ہیں۔


ایک اور نوجوان آرٹسٹ نتاشا بیگ کا شمار پاکستان کی عظیم گلوکاراؤں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایک ایسی سنگر ہیں جن کی موسیقی میں ہمیں صوفی اور راک میوزک کے رنگ نمایاں نظر آتے ہیں ۔ صوفیانہ کلا م گانے کا اعزاز انھیں گزشتہ برس ہی حاصل ہو ا جس کے بعد انھیں منی عابدہ پروین کے نام سے بھی پکارا جانے لگا ہے۔نتاشا کا خاندانی تعلق وادی ہنزہ سے ہے لیکن نتاشا کی پیدائش کراچی میں ہوئی اور تب سے ہی فیملی سمیت کراچی میں مقیم ہیں ۔

پاکستان کی کم عمراور خوبصورت گلو کارہ مومنہ مستحسن کا شمار ایسے ہی لوگوں میں کیا جاتا ہےجو نہ صرف خوبصورت آواز کی ملکہ ہیں بلکہ ذہین، خوبصورت اور ہر فن مولاہیں، یہی وجہ ہےکہ جلد ہی کامیابی ان کا مقدر بن گئی۔مومنہ مستحسن 5ستمبر 1992کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ اسٹونی بروک یونیورسٹی سے بائیو میڈیکل انجینئرنگ اور اپلائیڈ میتھمیٹکس میں گریجویشن کی ڈگر ی حاصل کی ۔