بیرون ملک جانے والے مسافروں کی بھی اسکریننگ کی جائے گی

وزیر اعظم کے معاون خصوصی قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے اسکریننگ کے جس عمل کا استعمال کیا جاتا ہے، وہی طریقہ کار ملک سے باہر جانے والوں کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔

حکومت کی جانب سے تبدیل کی گئی اس پالیسی کا اطلاق ہفتہ 27جون سے ہو گا اور یہ فیصلہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب 22جون ایمیریٹس ایئرلائن سے ہانک کانگ جانے والے 30پاکستانی مسافروں کا کورونا کا ٹیسٹ مثبت آ گیا تھا اور گزشتہ روز ایمیریٹس نے پاکستان کے لیے وقتی طور پر فلائٹس منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معید یوسف نے کہا کہ رپورٹس کے برعکس پاکستان سے جانے والے تمام مسافروں کا ٹیسٹ مثبت نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹس آئیں کہ پاکستان سے دیگر ملکوں کو جانے والے مسافروں کی بڑی تعداد وائرس کا شکار ہو گئی ہے، میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان سے بیرون ملک جانے والے مسافروں کے ٹیسٹ نہیں کیے جاتے لیکن ان کا درجہ حرارت اور علامات کو چیک کیا جاتا ہے، اگر کوئی شک ہوتا ہے تو محکمہ صحت کا عملہ مسافر سے پچھ گچھ کرتا ہے اور اور اگر شک ہو کہ مسافر کو کورونا ہے تو انہیں سفر کی کی اجازت نہیں دی جاتی۔

انہوں نے عوام خصوصاً اپنے ٹکٹ بُک کرانے والے افراد سے درخواست کی کہ وہ صرف اسی صورت میں ایئرپورٹ جب انہیں یقین ہو کہ وہ مکمل صحتیاب اور فٹ ہیں۔

معید یوسف نے خبردار کیا کہ اگر لوگوں میں علامات ہوں یا ان کی کسی کورونا کے مریض سے ملاقات یا رابطہ ہوا ہو تو انہیں ایئرپورٹ نہیں آنا چاہیے۔

انہوں نے مزید مشورہ دیا کہ عوام جس ،ملک کا سفر کر رہے ہیں وہاں کی پالیسی بغور پڑھ لیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ تمام شرائط پر پورا اترتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی ملکوں نے نے بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے 14دن قرنطینہ میں رہنے کو لازمی قرار دے دیا ہے جبکہ کچھ ملکوں نے مسافروں کے لیے ٹیسٹ کو لازم کردیا ہے لہٰذا ان ملکوں کا سفر کرنے والے افراد پہلے یہ یقینی بنا لیں کہ وہ ان شرائط پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں ان ملکوں کا سفر کرنے والے افراد سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ وہاں کی پالیسیوں پر عمل کریں، اگر آپ وہاں گئے اور ٹیسٹ مثبت آیا تو یہ پاکستان کے لیے سفارتی مسئلہ بن سکتا ہے۔

پاکستان سے جانے والے مسافروں کے ٹیسٹ مثبت آنے کےبارے میں گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی نے مزید کہا کہ حکومت اس مسئلے سے آگاہ ہے، کچھ ملکوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے ، ہم ایک ذمے دار ریاست کی حیثیت سے اس سلسلے میں اقدامات اٹھا رہے ہیں اور اس مسئلے کو حل کریں گے۔