سیاہ فام افراد سے تعصب؛ لیسٹر میں موجود گاندھی کا مجسمہ بھی نشانے پر

لندن: امریکہ میں سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کے پولیس کے ہاتھوں بہیمانہ موت کے بعد دنیا بھر میں انسانی حقوق کے حوالے سے ہونے والوے مظاہروں کی زد میں ایسی شخصیات کے مجسمے بھی آچکے ہیں جو کبھی سیاہ فام افراد سے تعصب برتتے رہے ہیں، انہی شخصیات میں مہاتما گاندھی کو بھی شامل کرکے لیسٹر میں نصب انکا مجسمہ ہٹانے کہ مہم بھی شروع کردی گئی ہے۔ اس سلسلے میں جاری کی گئی آن لائن پٹیشن کو مطلوبہ پانچ ہزار دستخط موصول ہونے کے بعد روک دیا گیا ہے، پٹیشن کے خالق کیری پی کا کہنا ہے کہ انہیں لیسٹر کونسل کیطرف سے خط موصول ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ میں اس آن لائن پٹیشن کو روک کر کونسل کو بلاواسطہ لکھیں اور اس میں مسٹر گاندھی بارے اپنے تمام تر تحفظات کا اظہار کریں۔

واضع رہے پٹیشن میں مہاتما گاندھی پر جہاں سیاہ فام افراد سے تعصب برتنے کا الزام لگایا گیا وہیں ان پر جنسی ہراسگی کا بھی الزام ہے۔ لیسٹر سے منتخب ممبر پارلیمنٹ کلاڈیا ویب نے اس حرکت کو پہلے سے جاری بلیک لائیوز میٹر کمپین کے خلاف ایک سازش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کمپین کا مقصد پہلی اور اصل کمپین سے توجہ ہٹانا ہے۔ بھارتی نژاد کمیونٹی رہنما بھی اپنے رہنما کے حق میں میدان میں موجود ہیں اور اس امر کا بھرپور دفاع کررہے ہیں کہ گاندھی جی ایک معصوم اور انسانیت پسند رہنما تھے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے انڈین ہسٹری کے پروفیسر دیو جی نے اس بحث کو ہی غیر مناسب قرار دیدیا ہے۔ دوسری جانب متعدد علمی شخصیات کا کہنا ہے کہ گاندھی جی اپنے دور میں کئی بار تعصب سے بھرپور جملے ادا کرچکے ہیں جو ریکارڈ پر موجود ہیں اس حوالے سے وہ انکا انیسویں صدی کا آخری دور سامنے لاتے ہیں جب گاندھی جنوبی افریقہ میں مقیم تھے۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ خود گاندھی کی زندگی پر ریسرچ کرنے والے انکے پوتے راج موہن گاندھی کہتے ہیں کہ وہ ایک وقت میں جنوبی افریقہ کے سیاہ فام افراد کے بارے میں متعصب رہے ہیں۔