کورونا کے دوران یورپی ممالک میں غیرقانونی تارکین وطن کی آمد متاثر

لندن: ترقی پذیر ممالک سے یورپ کی طرف ہجرت غریب ملک کے ہر خواب دیکھنے والے نوجوان کا پسندیدہ خواب رہا ہے یہی وجہ ہے کہ یورپ کے بارڈر پر سال کے تین سو پینسٹھ دن پہرہ رہتا ہے۔
ضروری نہیں کہ یورپی ممالک کو روزانہ کی بنیاد پر غیرقانونی امیگرینٹس کی اطلاعات موصول ہوں تاہم خطرے کہ یہ گھنٹی چوبیس گھنٹی بجتی رہتی ہے کہ نجانے کس وقت کوئی ڈوبتا تیرتا شخص یا بحری جہاز سمندر کا سینہ چیر کر بارڈر کے قریب نمودار ہوجائے، اسی ڈر سے سمندری بارڈر فورس چوبیس گھنٹے انجانے خطرے سے دوچار رہتی ہے۔
دنیا بھر میں پھیلی کورونا وبا نے بہرحال اس صورتحال کی سنگینی کو کم کیا ہے۔
یورپی یونین کے دفتر نے کورونا وبا کے دنوں میں پناہ یعنی اسائلم کے درخواستوں میں خطر خواہ کمی کا عندیہ دیا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق یورپی ممالک کو ماہ اپریل میں 8 ہزار 730 پناہ کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جو کہ وبا سے قبل کے جنوری اور فروری کے مقابلے میں 87 فیصد تک کم ہیں۔
یورپی اسائلم سپورٹ آفس کی جانب سے جاری کردہ اس خصوصی رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ عام وبا کے بعد معمول کی زندگی کی جانب لوٹنے کے بعد درخواستوں کی شرح میں دوبارہ سے اضافے کی توقع ہے۔